پاکستان

سانحہ اے پی ایس،متاثرین کا کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا مطالبہ

جون 10, 2022

سانحہ اے پی ایس،متاثرین کا کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا مطالبہ

سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور (2014) میں شہید بچوں کے والدین نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے کیس کی جلد سماعت کا مطالبہ کیا ہے.

جمعہ کو اے پی ایس سانحہ کے 20 سے زائد والدین پر مشتمل ایک وفد نے اجون خان کی قیادت میں صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن محمد احسن بھون سے بار کے ہیڈ آفس میں ملاقات کی۔

وفد نے صدر سپریم کورٹ بار کو کیس کی جلد دوبارہ سماعت سپریم کورٹ آف پاکستان شروع نہ کرنے متعلق اپنی شکایت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کیس کی آخری سماعت گزشتہ سال دس نومبر کو ہوئی تھی،اس کے بعد مذکورہ کیس کی جلد سماعت کیلئے متعدد درخواستیں جمع کرائی گئیں لیکن شنوائی نہیں ہو رہی.

والدین کا کہنا تھا کہ مذکورہ معاملے میں تاخیر توہین کی چوٹ میں اضافہ کر رہی ہے کیونکہ کوئی بھی ان کے پیارے بچوں کی قربانیوں کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ سوگوار خاندانوں نے شہید ہونے والوں کی تصاویر اٹھائے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اگرچہ انہوں نے 16 دسمبر 2014 کے اندوہناک واقعات میں اپنے بچوں کو کھو دیا ہے، پھر بھی وہ اس قتل عام کی گہرائی سے تحقیقات چاہتے ہیں تاکہ کوئی بھی والدین مستقبل میں ایسے صدمے اور مصائب سے دوچار نہ ہوں.

والدین نے اس بات پر شدید مایوسی کا اظہار کیا کہ حکومتی سطح پر کوئی بھی ان کی مدد اور انصاف کے حصول کے لیے تیار نہیں ہے، انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اس معاملے کا نوٹس لینے کی درخواست کی ہے۔

سوگوار خاندانوں (اے پی ایس کے شہدا کے والدین) سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے انہیں ہر سطح پر مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چیف جسٹس معاملے کا نوٹس لینے کی درخواست کریں گے.

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے والے اور اقوام عالم میں تنہا کرنے والے ایسے گھناؤنے جرم کے خلاف فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس لیے عدالتی اور حکومتی سطح پر گہرائی سے تحقیقات ضروری ہے تاکہ ذمہ داروں کو تلاش کیا جا سکے اور انہیں جلد از جلد کٹہرے میں لایا جا سکے۔

آخر میں اے پی ایس کے تمام شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے