کیا حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی میں کوئی سرگرمی دکھائے گی؟
رستم اعجاز ستی
پاکستان میں ماورائے آئین و قانون شہریوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے۔پاکستان میں آج تک شہریوں کو غائب کرنے کے جرم میں کسی کو سزا نہ مل سکی۔
دور آمریت میں لوگوں کو اٹھانے،گم کرنے اور بیچ دینے کی روایت پڑی۔آمریت کے بعد جمہوریت کی صبع طلوع ہوئی لیکن اسکے اعضاء بھی خوف کی زنجیروں میں جکڑے رہے۔ ورثاء انصاف کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھاتے اور دہائی دیتے رہے کہ اگر کسی کا کوئی قصور ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔لیکن لاپتہ افراد اور زیرحراست اموات کا سلسلہ جاری رہا۔
لوگ یہ سوال بھی پوچھتے رہے کہ کیا ایسی جمہوریت ٹوپی ڈرامہ نہیں ہوتی جس میں لوگوں کے بنیادی حقوق محفوظ نہ ہوں؟لیکن اس معاملے میں حکومت نام کی کوئی شے دکھائی نہ دی۔
پھر عدلیہ نے معاملے کا نوٹس تو لیا لیکن ریاستی ادارے قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے عدلیہ کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے رہے مگر عدلیہ تھوڑا شور مچانے کے علاوہ کوئی ٹھوس اقدام نہ اٹھا پائی۔باضابطہ عدالتی نظام سے بری لوگ بھی عدالت کے سامنے مارے جاتے رہے۔ جعلی مقابلوں اور حراستی مراکز میں تشدد کے واقعات منظر عام پر آتے رہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں حالیہ سماعت کے دوران لاپتہ افراد کے وکیل کرنل (ر) انعام الرحیم نے ایسے ہی ایک کیس کا تذکرہ کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ پشاور ہائیکورٹ میں مالا کنڈ حراستی مرکز کے حکام نے چھیاسٹھ ایسے افراد کی فہرست پیش کی تھی جن کے جرم کا کچھ اندازہ نہیں تھا جس میں واضح ہوا کہ پینتیش افراد کو ریاستی ادارے کے حوالے کیا گیا تھا۔
انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو بتایا کہ ۲۰۱۳ میں سپریم کورٹ نے ان افراد کو عدالتوں میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا جس پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوا جس پر چیف جسٹس نے حیرانی کا اظہار کیا۔ انعام الرحیم نے بتایا کہ ایک فوجی اہلکار نے سپریم کورٹ کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ یہ لوگ اسکی تحویل میں ہیں۔
اب اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک جاندار حکم جاری کیا ہے لیکن ماضی کی صورت حال کو دیکھا جائے کہ لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے سوال جنم لیتے ہیں۔کیا عدالتی فیصلے پر حکومت عملدرآمد کرے گی؟کیا تمام لاپتہ لوگ برآمد ہو جائیں گے؟ کیا عدالت لوگوں کو یہ یقین دلا سکی گی کہ ہر ایک کو انصاف ملے گا اور کوئی ادارہ اتناُمنہ زورُنہیں کہ انسانی جانوں سے کھیل سکے۔
حکومت نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے قانون بنائیں گے۔ قانون سازی بھی ضروری ہے لیکن پہلے لاپتہ لوگ بازیاب کروائے جائیں کیونکہ قانون تو پہلے ہی طاقت وروں کے قبضے میں ہے۔
لاپتہ افراد کے معاملے میں تمام سیاسی جماعتیں ایک صفحے پر ہیں،عدالت کا واضح فیصلہ بھی موجود ہے،اگر اب بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا تو یہ سب سے بڑی نا انصافی ہو گی۔

