پاکستان

بلوچستان کس کرب سے دوچار ہے؟

جولائی 8, 2022

بلوچستان کس کرب سے دوچار ہے؟

رستم اعجاز ستی /اسلام آباد

پاکستان کے شہر کراچی میں جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افراد کے اہلخانہ اپنے پیاروں کی بحفظاظت واپسی کیلئے تیرہ روز سے سراپا احتجاج ہیں۔

خواتین،بچے اور معمر افراد کیمپ میں اپنے لاپتہ پیاروں کی تصاویر اٹھائے اس امید پر بیٹھے ہیں کہ عید سے قبل انکے پیارے رہا ہو جائیں۔

ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے تاہم نئی لہر میں بلوچ طلبا کو بھی غائب کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

بلوچ لاپتہ افراد کی آواز( وی بی ایم پی) نے حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہوں سے اپیل کی ہے کہ عید کے موقع پر بلوچ طالب علم سعید عمر اور عبدالحمید سمیت دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔

واضح رہے کہ ملک بھر جبری گمشدگی کا سلسلہ تھم نہیں سکا۔ ورثا برس ہا برس سے دہائی دے رہے ہیں کہ اگر کسی کا کوئی قصور ہے تو اسے عدالتوں کے روبرو پیش کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے،یوں غائب کر دینا اور ورثاء کو آزاد میں مبتلا کر دینا مناسب نہیں لیکن شنوائی نہیں ہو رہی۔

جبری گمشدگی کا مسئلہ بلوچستان میں دیگر تمام مسائل پر حاوی ہے لیکن کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا اور یہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔

یہ سوال بھی پوچھا جاتا رہا ہے کہ کیا کسی بھی طرح کے حالات ریاستی اداروں کو اس امر کا جواز فراہم کرتے ہیں کہ آئین و قانون سے ماوری بنیادی انسانی حقوق سے کھیلتے رہیں؟جسے چاہیں اٹھا لیں،جسے چاہیں غائب کر دیں،جسے چاہیں فروخت کر دیں،جسے چاہیں حراستی مراکز میں ڈال دیں،جسے چاہیں تشدد کا نشانہ بنائیں اور جسے چاہیں گمنام جگہوں پر دفنا دیں؟

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے