فوجی عدالت سے سزائیں پانے والے قیدی کیا کہتے ہیں؟
رستم اعجاز ستی/اسلام آباد
پاکستان میں فوجی عدالتوں سے موت اور قید کی سزا پانے والے قیدیوں نے چیئرپرسن ڈیفنس آف ہیومن رائٹس آمنہ مسعود جنجوعہ کو مراسلہ ارسال کرتے ہوئے انسانی بنیادوں پر مدد کی اپیل کی ہے۔
سینٹرل جیل پشاور سے لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ہم فوجی عدالت سے موت اور قید کی سزا پانے والے278 قیدی اسی جیل میں پابندِ سلاسل ہیں۔
عرصہ دراز تک ہم خفیہ جیلوں میں لاپتہ رہے،پھر ملٹری کورٹ نے ہمیں موت اور قید کی سزائیں سنائیں، یہ ساری کارروائیاں یک طرفہ طور پر ہوتی رہیں جیسا کہ ساری دنیا جانتی ہےہمارے ساتھیوں کے گھروں پر پہرے کھڑے کر کے انہیں اپیل دائر کرنے سے جبری طور پر روک دیا گیا اورانہیں پھانسیاں دی گئیں۔
پھر کچھ عرصہ بعد فوج نے خود ہمارے سزائے موت اور قید پانے والے ساتھیو ں کے گھروں پر جاکر ملٹری کورٹ کے کاغذات پیش کئے اور انہیں اپیل دائرکرنے کیلئے کہا۔
جب ہم نے اپیل دائر کی تو مورخہ 18 اکتوبر 2018 کو ہائیکورٹ نے 74 اور پھر 16 جون 2019 کو 196افراد کو باعزت طور پر بری کردیا اوران کی رہائی کا حکم صادر فرمایا،حکومت نے ہماری رہائی پر غیر معینہ مدت تک کیلئے سٹے آرڈر حاصل کرلیا جس کی خلاف کچھ افراد نے سپریم کورٹ نے سے رجوع کیا لیکن وہاں پر بھی ہمارے کیس پینڈنگ کردیئے گئے۔
ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں ہمارا راستہ غیر قانونی طور پر روکدیا گیا اور کیس چلنے نہیں دیا جارہا،ہم نےکئی بار اجتماعی طور پر اور ہمارے گھر والوں نے بار بار اپنے طور پر کیس چلانے کیلئے درخواستیں دائر کیں مگر کچھ شنوائی نہیں ہوسکی ۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے آنےوالے بڑے کمانڈر جو دس بارہ سال وہاں مقیم رہ کر حکومت کیخلاف لڑتے رہے،وہاں سے آکر چند گھنٹوں کے اندر اندر باعزت طور پر گھر چلے جاتے ہیں اور دوسری طرف ہم ہیں کہ چودہ پندرہ سال سےمشقتیں کاٹ رہے ہیں قانونی ضابطے پورا کرنا چاہتے ہیں لیکن پورے کرنے نہیں دیتے بلکہ ہم پر تمام قانونی راستے دانستہ طور بند کردیئے گئے ہیں۔
حکومت بلند وبانگ دعوے کرتے آرہی ہیں کہ آئین کو تسلیم کرنے والوں کیساتھ بات چیت ہوسکتی ہے۔ تو کیا عدالت سے فیصلے کروانا آئین کو تسلیم کرنا نہیں ؟بلکہ کسی کو قانونی راہ اختیار کرنے نہ دینا آئین کو تسلیم کرنا ہے؟
ہم میں سے ایسے ساتھی بھی ہیں جنہیں ملیٹری کورٹس نے پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے جبکہ انکو مجموعی طور پر جیل میں تیرہ چودہ سال پورے ہورہے ہیں۔ہم میں سے بہت سے افراد ایسے بھی ہے جنہوں نے شادیاں کی تھی وہ عرصہ دراز سے اس کشمکش کی صورتِ حال میں پڑے ہیں۔بہت سارے افراد ایسے بھی ہیں جو اپنے بال بچوں کا واحد سہارا ہیں اور انکے بیوی بچے مذکورہ عرصے سے دربدر کے ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
ہم اپ سے گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے اس مسئلے کو بھی انسانی حقوق کے فورم پر پرزور انداز میں اٹھایا جائے تاکہ ہم بھی یہ محسوس کرسکیں کہ دنیا ہمیں بھی انسان سمجھتی ہے ،آپ انسانی حقوق کیلئے دن رات کوشاں ہیں اور ہم بھی یقیناً انسان ہیں لہذا ہمیں امید ہے کہ اپ صاحبان ہماری اس گزارش پر تہہ دل سے کاروائی عمل میں لاکر منطقی انجام تک پہنچا کر دم لینگے۔
چیئرپرسن ڈیفنس آف ہیومن رائٹس آمنہ مسعود جنجوعہ نے بتایا کہ ان قیدیوں کو بذریعہ خط ایک سوالنامہ بھجوایا گیا تھا جس میں پوچھا گیا تھا کہ انہیں کس تاریخ کو اغواء کیا گیا؟کتنا عرصہ لاپتہ رکھا گیا؟کہاں کہاں رکھا گیا؟کس طرح تشدد کیا گیا؟جیل میں کب سے قید ہیں؟ اور اس طرح کے مزید سوالات پوچھے گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں نے سوالنامے میں مندرجات کو پر کرتے ہوئے جوابات بھجوائے ہیں اور ساتھ ہی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کی اپیل کی ہے۔
آمنہ مسعود جنجوعہ نے بتایا کہ لاپتہ افراد متعلق حکومتی کمیٹی نے انہیں مدعو کیا ہے جس میں چاروں صوبوں سے لاپتہ افراد کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کرینگی اور مذکورہ معاملے کو بھی کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا یہ بیان خوش آئند ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہر ہفتے کمیٹی کا اجلاس ہو گا۔
چیئرپرسن ڈی ایچ آر کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور سندھ کے لاپتہ افراد کے کیسوں کے بارے میں بھی کمیٹی کے سامنے تفصیلات رکھیں گے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگی کی نئی لہر کے دوران بلوچ طالب علموں کو لاپتہ لیا جا رہا ہے جو تشویشناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر سے لاپتہ افراد کے ورثاء رابطہ کر رہے ہیں کہ کمیٹی میں ان کے پیاروں کے بارے میں بھی آواز بلند کی جائے،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو حکومتی کمیٹی پر اعتماد ہے کہ ان کے پیارے بازیاب ہو جائیں گے اور لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہوگا۔
آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا تھا کہ حکومتی کمیٹی پر لاپتہ افراد کے ورثاء کا اعتماد ہی اس کمیٹی کا اصل امتحان ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کرتے ہوئے برس ہا برس سے انصاف کے متلاشی دُکھی ورثاء کو مایوس نہیں کرے گی۔

