بلوچستان سے لاپتہ افراد کے ورثا 21 روز سے سراپا احتجاج
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے جبری لاپتہ افراد کے ورثا 21 روز سے کراچی پریس کلب کے سامنے اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کر رہے لیکن ان کی آواز حکمرانوں تک نہیں پہنچ رہی۔
جبری لاپتہ عبدالحمید زہری کی بیٹی سعیدہ حمید کا بذریعہ ٹویٹ کہنا ہے کہ میرے بابا کی جبری گمشدگی کو 15 ماہ ہو چکے ہیں۔ہم اکیس روز سے دیگر لاپتہ افراد کے ورثا کے ہمراہ اپنے پیاروں کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
میرے بابا سمیت دیگر لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے اور ہمیں اس تکلیف سے نجات دلائی جائے تاکہ ہم معمول کی زندگی کی جانب لوٹ سکیں۔
واضح رہے کہ ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی سالہا سال سے شہری لاپتہ ہیں اور تاحال یہ سلسلہ نہیں رک سکا،اب جبری گمشدگی کی نئی لہر کے دوران بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی کے واقعات بھی رونما ہوُرہے ہیں۔
ورثا سالہا سال سے دہائی دے رہے ہیں کہ اگر کسی کا کوئی قصور ہے تو عدالتوں کے روبرو پیش کیا جائے۔ لوگوں کو اٹھانا،غائب کر دینااور ورثا کو آزاد کی صلیب پر لٹکا دینا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور کسی طور بھی روا نہیں،لیکن شنوائی نہیں ہو رہی۔

