تاریخ سے سبق سیکھ کر جرنیلوں کو بھی یوٹرن لینا چاہیے: عمران خان
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ جب وہ ویراعظم تھے تو جبری گمشدگیوں پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے بات کی تھی۔
سنیچر کو ایک سیمینار میں خطاب کرتے سابق وزیراعظم نے کہا کہ فوج نے کافی لوگوں کو چھوڑا بھی لیکن آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے ڈی جی کو نظام عدل پر تحفظات تھے کہ لاپتہ کیے گئے کو عدالت میں پیش کریں تو ثابت کیسے کریں کہ وہ دہشت گرد ہے، اس کے خلاف گواہ کہاں سے لائیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ مسنگ پرسنز کے لیے سنہ 2003سب سے پہلے انہوں نے مظاہرہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جرنیلوں کو بھی یوٹرن لینا چاہیے، ہٹلر اور نپولین کی فوج روس میں تباہ ہوگئی، اس کو بہت سمجھایا تھا کہ سردیاں آ گئیں فوج واپس بلالیں، وہ نہیں مانا۔
ان کے مطابق آج پاکستان میں بھی وہ لوگ حکمران ہیں جن میں سے 60 فیصد ضمانت پر ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ نوازشریف میڈیا کو کنٹرول کرلیتا، اس کا مسئلہ فوج سے تھا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ان کے حکم پر کبھی کسی صحافی کو نہیں اٹھایا گیا، اور انہوں نے کبھی میڈیا کو پیسے کھلانے کی کوشش نہیں کی۔
عمران خان کے مطابق پاکستان میں تینوں ڈکٹیٹرز نے اداروں کو کمزور کیا جبکہ مشرف دورمیں خوشحالی آئی مگردہشتگردی کے خلاف جنگ نے تباہی مچائی۔

