پاکستان

بڑے صوبے پنجاب کا وزیراعلیٰ کون ہوگا؟

جولائی 22, 2022

بڑے صوبے پنجاب کا وزیراعلیٰ کون ہوگا؟

پاکستان میں آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں وزارت اعلٰی کے الیکشن میں صوبائی اسمبلی کے ارکان اپنے ووٹ کے ذریعے فیصلہ کر رہے ہیں تاہم دونوں امیدواروں کی حامی جماعتیں ایک دوسرے پر ہارس ٹریڈنگ کے سنگین الزامات عائد کر رہی ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اندر ووٹنگ کا عمل سہ پہر تین بجے شروع ہوگا جبکہ ڈپٹی سپیکر اسمبلی دوست محمد مزاری پریذائیڈنگ افسر کا کردار ادا کریں گے۔  

دونوں بڑی جماعتوں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن نے اپنے ارکان کو بسوں کے ذریعے اسمبلی کے اندر لے کر جانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

الیکشن سے قبل ارکان اسمبلی کو نجی ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا تاکہ مخالفین کی ان تک رسائی کو محدود کیا جاسکے۔

دونوں جماعتیں کا دعویٰ ہے کہ اس وقت ان کے پاس اکثریت ہے۔

ضمنی انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کے پاس 180 ارکان اور تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعت ق لیگ کے اراکین کی تعداد 187 ہے۔

پنجاب اسمبلی کا ایوان 371 اراکین پر مشتمل ہے جبکہ حال ہی میں مسلم لیگ ن کے دو جبکہ تحریک انصاف کے ایک رکن نے استعفیٰ دیا ہے۔

وزیر اعلٰی کے انتخاب کے لیے ہونے والا یہ مقابلہ الیکشن رن آف ہے۔ یعنی آئین میں درج کیے گئے طریقہ کار کے مطابق الیکشن کا ایک مرحلہ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے اس لیے کسی بھی امیدوار کے لیے یہ قدغن اب نہیں ہے کہ وہ 186 ووٹ ہی حاصل کرے۔  

جس امیدوار کے پاس ایک بھی ووٹ زیادہ ہوگا وہ وزیراعلٰی پنجاب منتخب ہو جائے گا۔

ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری پریذائیڈنگ افسر کے فرائض سرانجام دیں گے جن کا کہنا ہے کہ ’میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق انتخاب کا عمل پورا کرواؤں گا۔‘

’جس امیدوار کے نمبرز زیادہ ہوئے وہ قائد ایوان منتخب ہو جائے گا۔ میں دونوں جماعتوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ اسمبلی کے ماحول کو پرامن رکھیں تاکہ ایک آئینی ذمہ داری کو احسن طریقے سے پورا کیا جا سکے۔‘  

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے