کیا تین جج فیصلہ کریں گے کہ پاکستان کیسے چلے گا: حکومتی اتحاد
اسلام آباد میں حکومتی اتحادی رہنمائوں کی پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ کے تین ججز پر سخت تنقید کی گئی ہے۔
پیر کو اتحادی حکومت کے تمام قائدین پریس کانفرنس میں موجود تھے جن میں مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو، مریم نواز، ہاشم نوتزئی، ایمل خان، طارق بشیر چیمہ، خالد مگسی، اسلم بھوتانی، اسامہ قادری، خالد مقبول صدیقی، شاہزین بگٹی، محسن داوڑ، پیپلز پارٹی، جے یو آئی (ف) اور مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت شامل رہی۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم میں سوال کیا گیا تھا کہ کیا ہماری عدالتیں انصاف دے رہی ہیں، اگر عدالتیں انصاف دے رہی ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ظلم اور کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نظام نہیں چل سکتا، اسلام آباد ہائی کورٹ میں پانامہ کی اپیل سنی جا رہی ہے جو فائنل اسٹیج پر ہے، ہمدردوں نے مجھے مشورہ دیا کہ پریس کانفرنس نہ کریں۔
مریم نواز کے مطابق عوام کے نمائندوں کو اپنے سے بڑھ کر قوم کا سوچنا پڑتا ہے، مجھے کچھ حقائق قوم کے سامنے رکھنے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ فیصلہ غلط ہو سکتا ہے لیکن غلط فیصلے کے بعد دوبارہ غلط فیصلے کا تسلسل سے ہونا غلط ہے، فیصلوں کے اثرات دھائیوں تک رہتے ہیں، آنے والے وقت کے ساتھ وہ اثرات گہرے ہوتے جاتے ہیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ کسی بھی ادارے کی توہین کبھی بھی ادارے سے باہر نہیں ہوتی، ادارے کے اندر سے ہوتی ہے، متنازع فیصلوں سے عدلیہ کی توہین ہوتی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ ایک غلط فیصلہ سارے مقدمہ کو اڑا کر رکھ دیتا ہے، انصاف پر مبنی فیصلے پر جتنی بھی تنقید کی جائے وہ کوئی معنی نہیں رکھتی، لوگوں کو پہلے سے پتا ہوتا ہے کہ پٹیشن پر بینچ کونسا ہوگا اور فیصلہ کیا ہوگا۔
مریم نواز نے کہا کہ سنجرانی صاحب کے الیکشن میں چھ ووٹ مسترد ہوئے، عدلیہ میں جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ سپیکر کی رولنگ چیلنج نہیں کیا جا سکتی لہذا یہ ووٹ مسترد ہیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں سپیکر نے رولنگ دی کہ چوہدری شجاعت حسین (پارٹی سربراہ) کی مرضی کے خلاف دیئے گئے ووٹ شمار نہیں ہوں گے، سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر کو بلا کر کٹہرے میں کھڑا کیا۔
مریم نواز نے پوچھا کہ قاسم سوری کو سپریم کورٹ میں کیوں نہیں بلایا گیا؟ جبکہ سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین ٹوٹا ہے۔ پی ٹی آئی کے جعلی ووٹ ثابت ہوئے ہیں اور اڑھائی سال سے انہیں حکم امتناعی ملا ہوا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ شہباز شریف جب وزیراعظم بنے، اکثر عدالتوں میں دیکھے جاتے ہیں، پنجاب کے 25 ارکان کو پارٹی سربراہ کی منشاء کے خلاف ووٹ دینے پر ڈی سیٹ کر دیا گیا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے 25 ارکان عمران خان کی جھولی میں پھینک دیئے گئے، چوہدری شجاعت کے 10 ارکان کو بھی عمران خان کی جھولی میں پھینک دیا گیا۔
مسلم لیگ (ن) کے ارکان کم اور پی ٹی آئی کے ارکان کو زیادہ کرنا کہاں کا انصاف ہے۔
پارٹی کے سربراہ کو دیکھ کر اپنے ہی کئے ہوئے فیصلے بدل دیئے جاتے ہیں۔
اقامہ کی بنیاد پر نواز شریف کو پارٹی کے صدارت سے ہٹا دیا گیا۔ کہا گیا کہ پارٹی کا سربراہ سب کچھ ہوتا ہے، اس کے کہنے پر پارٹی چلتی ہے۔
چوہدری شجاعت جب بطور صدر اپنی پارٹی کو احکامات دیتے ہیں تو ان پر سوال اٹھتا ہے۔ عمران خان اگر بطور صدر پارٹی کو احکامات دیتے ہیں تو وہ معتبر ہو جاتے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ ہمارے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کی طویل فہرست ہے، حمزہ شہباز کے الیکشن جیتنے کے بعد پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کی دیواریں پھلانگیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان کی مرتبہ آئین کی تشریح اور حلیہ بدل جاتا ہے۔ قوم نے دیکھا چھٹی کے دن رات کو سپریم کورٹ رجسٹری کھلی۔
مریم نواز نے کہا کہ رجسٹرار خود گھر سے آیا اور کہا کہ کہاں ہے پٹیشن، اپریل 2022ء میں جب ہمیں حکومت ملی اور آج جولائی 2022ء میں موازنہ نہیں ہوگا، اکانومی کی صورتحال کا موازنہ 2017ء سے ہوگا، عمران خان نے قوم کا اربوں روپیہ ملک ریاض کو دیا۔
2017ء کے بعد ملک کی ایسی حالت ہوئی کہ آج تک سنبھل نہیں سکا۔

