پاکستان

سیلاب متاثرین کی امداد میں اضافہ،نقصانات کے ازالے کے لیے کمیٹی تشکیل

جولائی 28, 2022

سیلاب متاثرین کی امداد میں اضافہ،نقصانات کے ازالے کے لیے کمیٹی تشکیل

پاکستان میں مون سون بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی ،اب تک مجموعی طور پر ساڑھے تین سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر 356 افراد کی اموات ہوئیں جبکہ 400 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

ملک بھر میں سب سے زیادہ اموات بلوچستان میں 106، سندھ میں 90، پنجاب میں 76، خیبر پختونخوا میں 69، گلگت بلتستان میں 8 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 6 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وزیراعظم شہبازشریف نے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تعین کرنے کے لیے وفاقی وزرا پر مشتمل 4 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متعلق اجلاس میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی رقم میں اضافہ کے احکامات جاری کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ متاثرین اور زخمیوں کی امداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر2 لاکھ تک کیا جائے۔

علاوہ ازیں کچے پکے مکانات کی کیٹیگری ختم کر کے تمام متاثرہ مکانات کے لیے ایک جیسی امداد فراہم کرنے کا کہا ہے۔
’جزوی متاثرہ مکانات کی امداد 25 ہزارسے بڑھا کر ڈھائی لاکھ کی جائے جب کہ مکمل طور پر متاثرہ گھروں کے لیے امداد 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کی جائے۔‘ ‏

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومتوں کی بھرپور معاونت کرے گی۔

’پاکستان ہم سب کی ذمہ داری ہے، ہم باہمی معاونت سے متاثرہ لوگوں کی مدد کریں گے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیاں ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کی حکمتِ عملی پرعمل درآمد یقینی بنائیں۔ متعلقہ وزارتیں اور ادارے بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں سے مالی معاونت کےحصول کی کوششیں بھی تیز کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں موجود فنڈ کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت خط لکھے گی۔

بلوچستان میں سیلابی صورتحال پر جمعرات کو بریفنگ دیتے ہوئے چیف سیکریٹری بلوچستان نے بتایا کہ بلوچستان میں دس اضلاع بارشوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ 14 اضلاع میں جزوی نقصان ہوا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے