پاکستان

بلوچستان اور سندھ میں بارشوں سے تباہی، 127 ہلاک

جولائی 31, 2022

بلوچستان اور سندھ میں بارشوں سے تباہی، 127 ہلاک

بلوچستان اور اندرون سندھ مون سون بارشوں سے بڑے پیمانے پر شہری املاک کو نقصان پہنچا ہے اور رواں ہفتے مزید 27 اموات کے بعد بلوچستان میں بارش و سیلاب سے ہلاکتوں کی کُل تعداد 127 ہو گئی ہے۔

بلوچستان کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کوئٹہ اجمل شاد کے مطابق ’بلوچستان میں مون سون کی بارشوں نے 30 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ صوبے میں معمول سے چار گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔‘

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ ماہ سے جاری بارشوں نے ژوب سے لے کر گوادر تک صوبے کے تمام 34 اضلاع کو متاثر کیا ہے۔ سرکاری و نجی عمارتوں، ڈیموں، سڑکوں، پلوں، ریلوے ٹریکس، زراعت اور گلہ بانی سمیت ہر شعبے کو نقصان پہنچا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ’صوبے بھر میں اب تک 13 ہزار 320 مکانات جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ 23 ہزار مال مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔ 500 کلومیٹر سے زائد سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے۔‘

پی ڈی ایم اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر فیصل طارق کے مطابق ’24 جولائی سے شروع ہونے والے مون سون کے سپیل نے لسبیلہ اور جھل مگسی کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، جہاں سیلابی ریلے آبادیوں میں داخل ہونے کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بہہ گئیں اور متاثرہ علاقوں تک ابھی بھی زمینی رسائی نہیں۔ اس لیے کشتیوں اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کیا جا رہا ہے۔‘

ڈپٹی کمشنر لسبیلہ افتخار بگٹی کے مطابق ’اب تک مختلف دیہاتوں میں پھنسے ہوئے پانچ ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’سیلابی ریلوں میں بہنے اور مختلف حادثات میں ایک ہفتے کے دوران 11 افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ مجموعی طور پر 16 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔‘

لسبیلہ میں گذشتہ ہفتے طوفانی بارش کے بعد سیلابی ریلوں نے آبادیوں کا رخ کیا تھا۔ حب ڈیم بھرنے کے بعد دو لاکھ کیوسک سے زائد پانی کا اخراج ہوا جس سے بڑی آبادی زیرآب آئی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے