فوج سے لڑانے اور پارٹی توڑنے کی سازش ہو رہی ہے: عمران خان
پاکستان تحریک اںصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اب سازش کی جارہی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کو فوج سے لڑا دو،ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی فوج کے خلاف ہے۔
بدھ کو ایک ویڈیو خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اب بتایا جارہا ہے کہ ہم غدار ہیں اور یہ محب وطن ہیں،ان لوگوں کے مفادات ملک سے باہر ہیں، یہ آج ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ہم غدار ہیں، آپ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کو فوج کے خلاف کھڑا کردیں تو اس سے زیادہ خطرناک بات کوئی نہیں ہوسکتی۔
اپنے چیف آف سٹاف شہباز گِل کی گرفتاری پر عمران خان نے کہا کہ ’اگر شہباز گِل نے کچھ غلط کہا ہے تو قانون موجود ہے۔ ان کی گاڑی کے شیشے توڑے گئے، ڈرائیور کو مارا گیا یہ کون سا آئین و قانون کے مطابق تھا؟ شہباز گِل کو عدالت میں اپنی صفائی دینے کا موقع ملنا چاہیے۔‘
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’یہ کسی طرح میری کردارکشی کرنا چاہتے ہیں، اے آر وائے کی بندش اسی پلان کا حصہ ہے یہ اتنا خوف پھیلانا چاہتے ہیں کہ کوئی میرا موقف پیش نہ کر سکے۔ اب یہ یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا کی طرف بھی آئیں گے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو توڑنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ یہ تھوڑے سے لوگ اپنے ذاتی مفاد کے لیے ایسا پلان بنا رہے ہیں، مجھے ڈر ہے کہ کوئی ایسا فیصلہ نہ کیا جائے جس سے قومی سلامتی کمپرومائز ہو۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’سوات میں طالبان کی موجودگی پر حیرت ہے، خیبرپختونخوا میں ہمارے وزرا اور ارکان اسمبلی نے مجھے بتایا ہے کہ انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔‘
عمران خان نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس فیصلےمیں کچھ بھی نہیں ہے، کرپٹ پارٹیاں کبھی فنڈ ریزنگ نہیں کرسکتیں،مجھے پتہ ہے کہ پیسہ کیسے اکھٹا کیا۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ساری تفصیلات الیکشن کمیشن میں دی ہیں لیکن پھر بھی نزلہ ہم پر گررہا ہے، لوگوں نے ہمیں پیسے دیے ہمارے پاس آڈٹ بک موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہمیں اگلے الیکشن نہیں ہراسکتے اس لیے یہ ٹیکنیکل ناک آؤٹ کی کوشش کررہے ہیں۔ضمنی الیکشن میں بھرپور دھاندلی کی پھر بھی ان کے تمام منصوبے فیل ہوگئے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ توشہ خانہ سے جو کچھ لیا ہے قانون کے مطابق لیا ہے، سب کو تحفے ملتے ہیں آرمی چیف کو ملتے ہیں سب کی تحقیقات کریں۔ آصف زرداری نے توشہ خانہ سے تین گاڑیاں لی ہیں،نواز شریف نے ایک گاڑی لی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ اور توشہ خانہ کیس میں یہ لوگ مجھے نااہل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اب یہ میری کردار کشی کی مہم چلائیں گے جبکہ میرا مؤقف چلانے والوں کو بند کرنا شروع کردیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو بڑی تکلیف تھی کہ عمران خان اور فوج ایک ہی پیج پر ہیں اور نئی دہلی نے ہمیں بدنام کرنے کے لیے ڈس انفولیب قائم کی لیکن ہمارے سوشل میدیا کے جوانوں نے ڈس انفولیب کو بے نقاب کیا۔
عمران خان نے کہا کہ رجیم چینج کی سازش اب بھی جاری ہے، ہماری حکومت گرانے کے بعد بھارت میں خوشیاں منائی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میر جعفر اور میر صادق نے مل کر بیرونی سازش سے میری حکومت گرائی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت گرانے کے بعد بھارت میں خوشیاں منائی گئی، ایسی خوشیاں منائی گئیں جیسے کوئی بھارت سے پاکستان کا وزیر اعظم بن گیا۔
عمران خان نے کہا کہ ہم ایک دھمکی پر وار آن ٹیرر میں شامل ہو گئے،ڈالر ایک چھوٹی سی ایلیٹ نے لئے جبکہ قوم کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کو مشکلات سے نکالنے کا واحد راستہ صاف و شفاف انتخابات ہیں۔

