اہم خبریں متفرق خبریں

رانا ثنااللہ منشیات کیس کی دلچسپ کہانی، عدالت میں کیا ہوا؟

دسمبر 12, 2022

رانا ثنااللہ منشیات کیس کی دلچسپ کہانی، عدالت میں کیا ہوا؟

پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو انسداد منشیات کی عدالت نے سمگلنگ کے مقدمے میں گواہوں کے منحرف ہونے پر بری کر دیا ہے۔

عدالت میں کیس کے دلچسپ حقائق سامنے آئے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ رانا ثنا اللہ کی گاڑی‏راوی ٹول پلازہ پر 3:25 منٹ پر روکی گئی۔

اے این ایف کے مطابق وہیں پر منشیات کا وزن کیا گیا جو 21 کلوگرام تھا۔ گارڈز کے ساتھ جھگڑا بھی ہوا پھر راناثنااللہ کو باہر نکالا گیا۔ وہیں پر ابتدائی رپورٹ بھی تیار کی گئی۔

سیف سٹی کے ریکارڈ کے مطابق اس ساری کارروائی کے بعد گاڑی 14.5 کلومیٹر دور ڈاکٹرز ہسپتال 3:35 منٹ پر پہنچ گئی۔ اور پھر منشیات کا وزن بھی 15 کلوگرام کردیا گیا۔
‏عدالت نے جب پوچھا کہ وزن کیسے کم ہوا؟ تو بتایا گیا کہ ٹول پلازہ پر ناپ تول والا کنڈا خراب تھا۔

پھر پوچھا گیا ٹول پلازہ پر گاڑی 3 بج کر25 منٹ پر روکی گئی ساری کارروائی بھی ہوئی تو پھر گاڑی دس منٹ میں 14.5 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے 3 بج کر 35 منٹ پر ڈاکٹرز ہسپتال کیسے پہنچ گئی؟ عدالت کو بتایا گیا سیف سٹی کا کلاک خراب تھا۔ جب عدالت نے سیف سٹی کے حکام کو طلب کرکے پوچھا کہ کیا کلاک خراب تھا؟ تو عدالت کو بتایا گیا ان کا کلاک سیٹیلائٹ کے ساتھ جڑا ہے وہ خراب نہیں ہو سکتا۔

ایسا مذاق صرف پاکستان کی عدالتوں کے ساتھ ہی ہوسکتا ہے۔ کسی اور ملک میں کسی کی جراؑت نہیں کہ وہ عدالت میں ایسی من گھڑت، جھوٹی کہانیاں سنا سکے۔
‏’جان اللہ کو دینی ہے’ والے کہاں ہیں؟

احمد ولید ۔ صحافی

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے