وزارت اعلی سے ہٹانا غیر آئینی ہے، پرویز الہی ہائیکورٹ میں
پنجاب کے سابق وزیراعلی پرویز الہی نے گورنر کی جانب سے اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر ڈی نوٹیفائی کیے جانے کے حکم کو ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
جمعے کو چوہدری پرویز الٰہی کے وکلا نے پانچ صفحات پر مشتمل درخواست دائر کی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ گورنر نے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے وزیراعلٰی کو خط لکھا ہی نہیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ’عدالت گورنر پنجاب کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دے۔‘
درخواست کے مطابق ’خط سپیکر کو لکھا گیا وزیراعلٰی کو نہیں۔ ایک اجلاس کے دوران گورنر دوسرا اجلاس طلب نہیں کر سکتے۔‘
’گورنر کو اختیار نہیں کہ وہ غیر آٸینی طور پر وزیر اعلٰی کو ڈی نوٹیفائی کر سکیں۔‘
خیال رہے کہ چوہدری پرویز الہی نے رات گئے اپنے قانونی مشیروں کو پیٹیشن تیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔
جمعرات کو رات گئے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر بلیغ الرحمان نے وزیر اعلٰی پرویز الٰہی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا حکم نامہ جاری کر دیا تھا۔
گورنر پنجاب نے پرویز الٰہی کو ڈی نوٹی فائی کرنے کا آرڈر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کیا۔
اس آرڈر کے مطابق گورنر نے 19 دسمبر کو وزیراعلٰی کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کی۔
حکم نامے کی عبارت کے مطابق ’21 دسمبر سہ پہر چار بجے کے لیے وزیراعلٰی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا گیا۔ تاہم 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود انہوں نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا۔ لہذا آئین کے آرٹیکل 30 کی رو سے کابینہ کو ختم کیا جاتا ہے۔‘

