دیت کی ادائیگی، گاڑی سے مزدور کچلنے والی کرنل کی بیٹی پر مقدمہ ختم
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ڈی 12 میں کم عمر لڑکی کی ڈرائیونگ کے دوران 40 سالہ شخص کی ہلاکت کے مقدمے میں فریقین کے مابین راضی نامہ ہو جانے کے بعد ایف آئی آرختم کر دی ہے.
خیال رہے کہ ملزمہ فوج کے ایک کرنل کی بیٹی ہیں جن کو پولیس گرفتار نہیں کر سکی تھی.
اسلام آبادکے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر عباس سپرا کی عدالت سے جاری فیصلے کے مطابق ملزمہ اور مدعی مقدمہ عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمہ اور لواحقین کے درمیان راضی نامہ ہو گیا جس کے عوض لڑکی کے گھر والوں نے لواحقین کو 69 لاکھ روپے بطور دیت ادا کر دیے ہیں۔
عدالت میں پیش کیے گئے دستاویزات کے مطابق دیت کی رقم میں سے 9 لاکھ کیش اور 60 لاکھ ڈرافٹ کے ذریعے ادا کیے جس کے بعد مرحوم کی بیوہ نے عدالت کے سامنے کیس واپس لینے کا بیان دیا۔
ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ اپنے 40 سالہ ملازم سلطان سکندر کے ہمراہ اسلام آباد کے سیکٹر ڈی 12 میں زیر تعمیر مکان کی نگرانی کر رہی تھیں کہ اچانک خطرناک انداز میں چلائی جانے والی ایک گاڑی نے ان کے ملازم کو کچل دیا۔
اس ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322 یعنی قتل بس سبب اور دفعہ 279 یعنی غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
درخواست کے مطابق گاڑی ایک نوجوان لڑکی چلا رہی تھی جس کے ہمراہ ایک شخص موجود تھا جو موقع سے فرار ہو گئے۔ اس شخص کے بارے میں، درخواست گزار کے مطابق، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ لڑکی کا ملازم تھا۔
درخواست کے مطابق گاڑی چلانے والی لڑکی لائسنس کے بغیر ایک ممنوعہ جگہ پر ڈرائیونگ سیکھ رہی تھی۔

