بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ، 6 اہلکار مارے گئے
پاکستان کے صوبے بلوچستان میں رواں ہفتےسکیورٹی فورسز پر حملوں میں اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے اور 2 دنوں کے دوران کوہلو، کوئٹہ، ژوب، تربت ، حب اور خضدار میں سکیورٹی فورسز پر 9حملے ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق ان حملوں میں ایک فوجی افسر سمیت چھ اہلکار جان سے گئے جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
صوبائی دار الحکومت کوئٹہ میں بھی دو دستی بم دھماکے ہوئے۔
سرکاری حکام کے مطابق سب سے ہولناک حملہ اتوار کی سہ پہر کو بلوچستان کے ضلع کوہلو سے تقریباً 80 کلومیٹر دور کاہان میں سہریں کہور کے مقام پر کیا گیا جس میں ایف سی84 ونگ کی گاڑی کو آئی ای ڈی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) نے واقعہ کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ سیکورٹی فورسز کے اہلکار 24دسمبر سے مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کاہان میں ایک کلیئر آپریشن میں مصروف تھے۔ اس دوران ہونے والے بم دھماکے میں کیپٹن فہد، لانس نائیک امتیاز، سپاہی اصغر، سپاہی مہران اور سپاہی شمعون جان کی بازی ہار گئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’وطن کے ان بہادر بیٹوں نے مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ دشمن عناصر کی اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں بلوچستان کے امن اور خوشحالی کو سبوتاژ نہیں کرسکتیں۔ سیکورٹی فورسز ہر قیمت پر دشمن کے مزموم عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پر عزم ہے۔‘
ایک اور حملہ بلوچستان کے ضلع ژوب سے تقریباً سو کلومیٹر دور سمبازہ میں پاک افغان سرحد کے قریب ایف سی69 ونگ کی فضل کریم چیک پوسٹ پر کیا گیا۔
پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں حملے کی تفصیل جاری کرتے ہوئے بتایا کہ مقابلے میں ایک دہشت گرد مارا گیا جبکہ سپاہی حق نواز ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

