کالم

حق خودارادیت،کشمیریوں کا اٹوٹ مقصد

جنوری 5, 2023 4 min

حق خودارادیت،کشمیریوں کا اٹوٹ مقصد

Reading Time: 4 minutes

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے5جنوری 1949کو ایک قرار داد منظور کی تھی جس میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق تسلیم کیاگیا۔
پاکستانی اور بھارتی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے جامع قرارداد منظور کی جسے دونوں ملکوں نے اتفاق رائے سے قبول کیا۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا کہ وہ ریاست جموں وکشمیر میں جنگ بندی کا اہتمام کریں، افواج اور بر سرپیکار رضا کاروں کا انخلاکریں اور کشمیریوں کو اپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کاحق اورسہولت دینے کے لیے مجوزہ کمشنر رائے شماری سے تعاون کریں تا کہ کمیشن ریاست میں جلد از جلد آزادانہ رائے شماری کا انعقاد کر سکے۔

جنگ بندی کے عمل کو مانیٹر کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے دونوں ممالک کی منظوری سے مبصرین تعینات کرنے کا فیصلہ بھی کیاتھا۔

قبل ازیں 13اگست1948ء کو بھی اس مسئلے کے حوالے سے ایک قرار داد منظور کی گئی تھی جس میں فی الفور سیز فائر کا مطالبہ کیا گیا اور یہ بھی قراردیا گیا کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی مرضی سے کیاجائے گا جس کا اظہار وہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ریفرنڈم کے ذریعے کریں گے۔

یہ دونوں قراردادیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک ایسا مضبوط اور ٹھوس حوالہ ہیں جسے نہ عالمی برادری نظر انداز کر سکتی ہے نہ بھارت ہی اپنی جان چھڑا سکتا ہے۔
ان قراردادوں پر جزوی طور پر عمل درآمد ہوا یعنی سیز فائر عمل میں آیا، ناظم رائے شماری کا تقرر ہوا، اقوام متحدہ کے مبصرین بھی تعینات ہوئے اور پچاس کی دہائی میں رائے شماری کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر کئی کاوشیں ہوئیں جو بد قسمتی سے بھارت کے عدم تعاون کے باعث بار آور ثابت نہ ہو سکیں۔

اس طرح 73سال سے کشمیری حق خودارادیت ملنے کے منتظرہیں۔ اس دوران بھارت نے کشمیریوں پر مظالم ڈھانے کے نت نئے ہتھکنڈے اپنائے اور ستم کی تاریخ رقم کردی۔اس نے لاکھوں کشمیریوں کا قتل کیا۔
یہ سلسلہ گذشتہ برس بھی جاری رہا۔
دسمبر2022ء کے اوائل میں بھارت کے نائب وزیر داخلہ نتیہ نند رائے نے بتایا تھا کہ جموں و کشمیر میں 30 نومبر 2022 تک مجاہدین اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے درمیان تصادم کے متعدد واقعات میں 180 کشمیری مارے گئے۔

انہوں نے پارلیمان کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں بتایا تھاکہ جموں و کشمیر میں نومبر 2022 کے اواخر تک 123 واقعات پیش آئے۔ ان میں 31 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے۔31 عام شہریوں کو بھی اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔

سال 2022ء میں بھارتی فوج کی دہشت گردی سے مرنے والے کشمیریوں کی تعداد200کاہندسہ عبورکرگئی۔

بھارت نے کشمیر میں اسرائیلی طرزکی کارروائیاں بھی شروع کررکھی ہیں۔
دسمبرمیں حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر کے مکان کو بلڈوزر سے منہدم کر دیاگیا۔بھارتی زیرقبضہ کشمیر میں یہ ایک نیا رجحان ہے۔جموں و کشمیر انتظامیہ نے ضلع اننت ناگ میں پہلگام علاقے کے لوار گاؤں میں بلڈوزر کی مدد سے ایک منزلہ عمارت کو منہدم کر دیا۔ جس عمارت کو منہدم کیا گیا وہ مبینہ طور پر حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر عامر خان کا مکان تھا۔
بھارت میں عموماً مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے ماورائے عدالت اقدام ہوتے رہے ہیں، جہاں ان کے گھروں کو متعدد بار مسمار کیا جا چکا ہے۔ تاہم کشمیر میں یہ ایک نیا رجحان ہے۔
کچھ روز قبل ہی جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں بھی ایک مبینہ کمانڈر عاشق نینگرو کے مکان کو بلڈوزر سے تباہ کر دیا تھا۔ایک مقامی صحافی کے مطابق، ”ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کے ساتھ ایک طرح کا یہ ایک نیا سلوک ہے۔
کشمیر میں تصادم کے دوران ان کے گھروں کو جلانے اور منہدم کرنے کا چلن پرانا ہے، تاہم اب بلڈوزر سے ان کے مکانوں کو نشانہ بنانے کا ایک نیا رجحان شروع ہوا ہے۔
بھارت میں، جہاں بھی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی اقتدار میں ہے، وہاں مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر کا استعمال اب ایک عام بات ہوتی جا رہی ہے، جس پر کئی حلقوں کی جانب سے نکتہ چینی ہوتی رہی ہے تاہم اس کے استعمال میں کمی کے بجائے اضافہ ہورہا ہے۔کئی ریاستوں میں جہاں بی جے پی برسراقتدارے وہاں ہزاروں مسلم کنبوں کے بے گھر ہو جانے کا خطرہ شدید ہو گیا ہے۔
شمال مشرقی ریاست آسام میں بھی مبینہ غیر قانونی تجاوزات کو خالی کرانے کے لیے مکانات کو منہدم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان تقریباً 5000 مکانات میں سے بیشتر مسلمانوں کے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق مئی2021 سے اب تک آسام میں 4000 سے زائد افراد کو ان کے مکانات سے بے دخل کیا جاچکا ہے۔
مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت نے اجین شہر کے مسلمانوں کے گلمہر کالونی کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسرائیلی طرزکے اس حربے کا سب سے زیادہ استعمال یو پی کے کانپور اور الہ آباد شہروں میں کیا گیا۔

اس تمام صور ت حال میں کچھ حلقے جب خود مختاری کی بات کرتے ہیں تویہ بیانیہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور ان کی روح کے منافی ثابت ہوتاہے۔ پون صدی سے کشمیری جو قربانیاں دے رہے ہیں وہ حق خودارادیت کے لیے ہیں نہ کہ اس مسلمہ اصول سے انحراف کے حق میں۔غیر جانب دارانہ استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا جو اختیار اقوام عالم نے دیاہے وہی مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہے،پہلااور آخری۔کشمیر ی نوجوان شباب کی دہلیزپر قدم رکھتے ہیں ایک کے بعد ایک مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوتے چلے جاتے ہیں اوربھارتی فوج سے لڑتے ہوئے موت کو گلے لگاتے چلے جاتے ہیں۔

اس جاں فروش جدوجہد کے ہوتے کوئی بھی دوسراآپشن قابل قبول نہیں۔حق خودارادیت کشمیریوں کی اٹوٹ منزل اور اٹوٹ مقصدہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے