پاکستان

آئی ایم ایف نے معاہدے سے پہلے شرائط پوری کرنے کے لیے کہا ہے: پاکستان

جنوری 7, 2023

آئی ایم ایف نے معاہدے سے پہلے شرائط پوری کرنے کے لیے کہا ہے: پاکستان

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کہتا ہے کہ پہلے شرائط پوری کریں اس کے بعد معاہدہ ہو گا۔

سنیچر کو فیصل آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ’آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا اور پھر اسے توڑ دیا.

ان کا کہنا تھا کہ ’اب آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اس وقت وزیراعظم کون تھا اور اب کون ہے۔ ہمیں یہ علم ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نے ہمارے ساتھ معاہدے پر عمل نہیں کیا۔‘

’آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم نے ہمارے ساتھ تیل کی قیمتیں بڑھانے کا وعدہ کیا اور اس نے انہیں کم کیا۔‘

وزیر داخلہ کے مطابق ’جب اس (عمران خان) نے دیکھا کہ اس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور ہو رہی ہے تو اس نے فوری طور پر قیمتیں کم کی تھیں۔‘

رانا ثنا اللہ کے مطابق ’اب وہ (آئی ایم ایف) کہتے ہیں کہ پہلے آپ ہر شرط پوری کریں اور بعد میں ہم آپ کی مدد کریں گے۔ دوست ممالک بھی کہتے ہیں کہ آپ پہلے آئی ایم ایف سے معاہدہ کریں تو اس کے بعد ہم آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم آئی ایم ایف سے معاہدہ کرتے ہیں تو اس کا پیڑولیم کی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے۔ دوسری چیزوں پر اثر پڑتا ہے۔ گیس کی قیمت بڑھتی ہے، اور پھر مہنگائی بڑھتی ہے۔‘

’مہنگائی کا کلچر بھی ایسا ہے کہ جب پیٹرول کی قیمت بڑھتی تو یہ بھی بڑھ جاتی ہے، لیکن جب کم ہوتی ہے تو مہنگائی کم نہیں ہوتی۔ اس مشکل صورتحال سے حکومت دوچار ہے۔‘

دوسری طرف وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ اُن کی عالمی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر سے بات چیت ہوئی ہے، آئی ایم ایف کا وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا۔

سنیچر کو اپنی ٹویٹ میں شہباز شریف نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کو ٹیلی فون کال کے دوران بتایا کہ حکومتِ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کو مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کرسٹلینا جارجیوا کو ٹیلی فون کال کے دوران پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث درپیش مشکلات سے بھی آگاہ کیا۔ آئی ایم ایف کا وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان کے مرکزی بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر مزید کم ہوکر 5.6 ارب ٖڈالر رہ گئے ہیں۔ کمرشل بینکوں کے پاس موجود 5.8 ارب ڈالرز ملا کر ملک کے کل ذخائر 11.4 ارب ڈالرز ہیں جو کہ ماہرین معیشت اور کاروباری افراد کے مطابق صرف تین ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے