مقتول ایڈووکیٹ عبداللطیف آفریدی کی دُشمنی کیسے شروع ہوئی؟
یہ لالہ عبداللطیف آفریدی ایڈووکیٹ کی ذاتی یا خاندانی دُشمنی نہ تھی جس کی وہ بھینٹ چڑھ گئے۔
اس کہانی کا آغاز 17 مارچ 2015 کو ہوا جب ایڈووکیٹ سمیع اللہ آفریدی کو پشاور کے علاقے متھرا میں ٹارگٹ کلرز نے گولی مار کر قتل کر دیا۔
سمیع اللہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل تھے جنہوں نے ویکسینیشن کی جعلی مہم چلائی اور سنہ 2011 میں امریکی سی آئی اے کی مدد کی تھی جس کے باعث ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو تلاش کیا گیا۔
سمیع اللہ کی موت کے بعد طالبان کے ایک الگ ہونے والے گروپ جند اللہ نے ایک بیان جاری کرکے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ تاہم سمیع اللہ کے اہل خانہ نے وزیر اکبر (لطیف آفریدی کے فرسٹ کزن) پر سمیع اللہ کے قتل کا شبہ ظاہر کیا۔

اس کے بعد 26 دسمبر 2019 کو وزیر اکبر ایک ٹارگٹ حملے میں مارے گئے۔ کسی پر الزام نہیں لگایا گیا، لیکن وزیر اکبر کے خاندان کو معلوم تھا کہ یہ سمیع اللہ کے خاندان نے کروایا ہے۔
دونوں خاندانوں کے درمیان کئی جرگے ہوئے۔ وزیر اکبر، کی نمائندگی لطیف آفریدی نے کی جبکہ سمیع اللہ آفریدی فیملی کی نمائندگی آفتاب آفریدی (سیشن جج) نے کی۔
اس کے بعد، وزیر اکبر کے بیٹوں اور بھتیجوں نے لطیف آفریدی کو نظرانداز کیا کیونکہ وہ جرگوں میں کوئی پیش رفت نہ کر سکے اور آخر کار آفتاب آفریدی (جج اے ٹی سی سوات، پر حملہ کر دیا۔
جج آفتاب آفریدی، مقتول سمیع اللہ آفریدی ایڈووکیٹ کے فرسٹ کزن اور بہنوئی تھے۔ اُن کو چار اپریل 2021 کو جب وہ اپنی فیملی کے ساتھ اپنی سرکاری گاڑی میں تھے نشانہ بنایا گیا۔

ان پر کل 69 گولیاں چلائی گئیں۔ ڈرائیور اور سیکیورٹی گارڈ زخمی ہوئے، جب کہ آفتاب آفریدی کو 7، ان کی اہلیہ کو 4 گولیاں لگیں۔
اُن کے 2 سالہ پوتے کا سر گولیوں سے اڑا ہوا پایا گیا تھا، اور اُن کی حاملہ بہو کے چہرے پر گولیاں لگی تھیں۔ فائرنگ سے جج، اہلیہ، پوتا اور بہو موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
یہ ایک دل دہلا دینے والا اندوہناک واقعہ تھا. اس حملے کے بعد مقدمے میں کُل 7 ملزمان نامزد کیے گئے تھے۔
اے ٹی سی کے جج اور ان کے اہل خانہ کے قتل کا الزام لطیف آفریدی، ان کے بیٹے ایڈووکیٹ دانش آفریدی سمیت سات افراد پر لگایا گیا۔
لطیف آفریدی اور ان کے بیٹے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 109، یعنی قتل پر اُکسانے یا مدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
پشاور ہائی کورٹ نے لطیف آفریدی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی توثیق کردی جب کہ ان کے بیٹے اور باقی ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا۔
مجاز عدالت میں فوجداری مقدمہ چلایا گیا۔ ثبوت اور گواہوں کو دیکھنے کے بعد آفتاب آفریدی جج پر حملے میں نامزد تمام ملزمان کو ٹرائل کورٹ نے 23 دسمبر 2022 کو بری کر دیا تھا۔
پھر 16 جنوری 2023 کا دن آ گیا اور ایک تازہ لا گریجویٹ اور زیر تربیت وکیل، عدنان سمیع اللہ، سمیع اللہ آفریدی کے بیٹے (مقتول جج کے بھتیجے) نے پشاور ہائی کورٹ بار روم کے احاطے میں لطیف آفریدی پر حملہ کیا۔
لطیف آفریدی کو نہایت قریب سے 6 گولیاں ماری گئیں جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے۔
لالہ لطیف آفریدی ایڈووکیٹ اور جج آفتاب آفریدی، دونوں بہت زیادہ پڑھے لکھے اور روشن خیال افراد، خاندانی دشمنی کے اس واقعے کا شکار ہوئے جس میں دونوں کا کوئی کردار نہیں تھا۔
لطیف لالہ، ہمارے ساتھی، ہمارے استاد، ہمارے مرشد، ہماری طاقت اور بے آوازوں کی آواز کو تاریخ میں اس طرح مر نہیں جانا چاہیے تھا۔
عماد خلیل ایڈووکیٹ

