عالمی خبریں

سویڈن حکومت کی سرپرستی میں قرآن نذرِ آتش، اسلامی دنیا کی مذمت

جنوری 22, 2023 2 min

سویڈن حکومت کی سرپرستی میں قرآن نذرِ آتش، اسلامی دنیا کی مذمت

Reading Time: 2 minutes

سویڈن میں دائیں بازو کے ایک سیاست دان کی جانب سے حکومتی سرپرستی میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کو نذرِ آتش کرنے پر اسلامی دُنیا میں سخت غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

سعودی عرب، پاکستان، خلیجی ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم (او ائی سی) نے سویڈن میں ترکیہ کے سفارتخانے کے باہر قرآن کی بے حرمتی کے واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے سٹاک ہوم میں ایک انتہا پسند کو قرآن کریم کی بے حرمتی کرنے کی اجازت دیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں انتہا پسندی کے خلاف اپنے ٹھوس موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’مملکت نے ہر موقع پر انتہا پسندی اورنفرت کو پھیلانے کی ہرطرح کی کوششوں کو رد کیا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’سعودی عرب ہمیشہ سے رواداری اور بقائے باہمی کی اقدار کو فروغ دینے پرعمل پیرا ہے۔‘

ایک بیان میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے قرآن کی بے حرمتی کو ’نفرت انگیز‘ عمل قرار دیا دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل کی ’سخت مذمت‘ کی جاتی ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ ’اسلاموفوبیا پر مبنی اس اشتعال انگیز کام کے باعث دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔‘

کویت، امارات اور اوآئی سی نے بھی قرآن کریم کی بے حرمتی کی شدید مذمت کی ہے۔

کویتی وزیرخارجہ سالم عبداللہ الجابرالصباح نے اس المناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا بھر کے مسلمانوں کے احساسات شدید مجروح ہوئے ہیں۔‘

اردن کی جانب سے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس عمل کو انتہا پسندی اور تعصب پرمبنی قرار دیا گیا۔

اماراتی خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق متحدہ عرب امارات نے بیان میں ایک انتہا پسند کی جانب سے قرآن کریم کی بے حرمتی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے نفرت پھیلانے کا اقدام قرار دیا ہے۔

دوسری طرف ترکیہ کی حکومت نے سویڈن کے وزیر دفاع کا اگلے ہفتے کا طے شدہ دورہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے