پاکستان

سپریم کورٹ کے حکم پر واگزار کرائی اراضی پر بحریہ ٹاؤن کا دوبارہ قبضہ: رپورٹ

فروری 9, 2023

سپریم کورٹ کے حکم پر واگزار کرائی اراضی پر بحریہ ٹاؤن کا دوبارہ قبضہ: رپورٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ سندھ میں جنگلات کی سینکڑوں ایکڑ اراضی جو عدالت عظمیٰ کے حکم پر واپس لے گئی تھی اُس پر بحریہ ٹاؤن نے ہاؤسنگ سوسائٹی بنا لی ہے۔

جمعرات کو عدالت میں سندھ کے جنگلات کی اراضی پر ہاؤسنگ پراجیکٹس کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ سیٹلائٹ نقشوں کے ذریعے اراضی کی نشاندہی کے لیے کہا تھا، ڈیڑھ برس میں کیوں نہ کی جا سکی؟

سپریم کورٹ نے محکمہ جنگلات کی اراضی کی نشاندہی کرنے والی نجی کمپنی کے نمائندوں کو آئندہ سماعت پر عدالت طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے درخواست گزاروں سے محکمہ جنگلات سندھ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ پر جواب بھی طلب کر لیا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ جنگلات اراضی کی نشاندہی میں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگنا سمجھ سے بالاتر ہے؟

سندھ کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ محکمہ جنگلات نے عبوری رپورٹ جمع کروائی ہے، تفصیلی رپورٹ کے لیے رواں سال دسمبر تک کا وقت دیا گیا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا سیٹلائٹ اتنا آہستہ چلتا ہے ؟ جون 2022 سے سیٹلائٹ ایمجز ہی نہیں بن پا رہے۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ بڑے ایریا کی وجہ سے رپورٹس میں تاخیر ہو رہی ہے۔

وکیل صلاح الدین نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ میں محکمہ جنگلات کی اپنی رپورٹ میں 75 ایکڑ اراضی پر قبضے کو تسلیم کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم 221 ایکڑ اراضی کا قبضہ محکمہ جنگلات کو واپس دیا گیا تھا۔

وکیل صلاح الدین نے بتایا کہ اب گوگل میپ کے مطابق اس اراضی پر دوبارہ قبضہ کر لیا گیا ہے اور اس ساری زمین پر یا ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں یا کاشتکاری ہو رہی ہے۔

وکیل نے بتایا کہ محکمہ جنگلات نے واگزار کروائی گئی اراضی پر سپریم کورٹ میں دوبارہ جنگلات لگانے کا موقف اختیار کیا تھا۔

عدالت نے محکمہ جنگلات کو چار ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور محکمہ جنگلات سے درخواست گزار کے الزامات پر بھی جواب طلب کرتے ہوئے مزید سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے