پاکستان

پاکستان کی تاریخ میں صرف ایک دیانتدار وزیراعظم آیا: چیف جسٹس

فروری 9, 2023

پاکستان کی تاریخ میں صرف ایک دیانتدار وزیراعظم آیا: چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں ایک ہی وزیراعظم آئے تھے جو بہت دیانت دار سمجھے جاتے تھے جن کی حکومت آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کے تحت ختم کی گئی تھی۔

جمعرات کو وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے نیب ترامیم پر عمران خان کے حق دعوی نہ ہونے پر دلائل دیے۔

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت آرٹیکل 184 تھری پر محتاط رہے، عدالت آرٹیکل 184 تھری کے تحت کسی بھی درخواست پر قانون سازی کالعدم قرار دے گی تو معیار گر جائے گا۔

وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184 تھری کا اختیار عوامی معاملات میں ہوتا ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ موجودہ کیس کے حقائق مختلف ہیں، ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ نے نیب ترامیم چیلنج کی ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک میں شدید سیاسی تناو اور بحران ہے، پاکستان تحریک انصاف نے پہلے پارلیمنٹ چھوڑنے کی حکمت عملی اپنائی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پتا نہیں کیوں پھر پارلیمنٹ میں واپس آنے کا بھی فیصلہ کر لیا، درخواست گزار عمران خان کوئی عام شہری نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے حکومت چھوڑنے کے بعد بھی بڑی تعداد میں عوام کی پشت پناہی حاصل رہی ہے، عدالت بھی قانون سازی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے کوئی ازخود نوٹس نہیں لیا بلکہ نیب ترامیم کے خلاف درخواست آئی ہے، عدالت اس سے پہلے بھی ایک بار اپنے فیصلے پر افسوس کا اظہار کر چکی ہے۔

چیف جسٹس عمر عطابندیال کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی وزیراعظم آئے تھے جو بہت دیانت دار سمجھے جاتے تھے، جن کی حکومت 58 ٹو بی کے تحت ختم کی گئی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 58 ٹو بی ڈریکونین لاء تھا، عدالت نے 1993 میں قرار دیا کہ حکومت غلط طریقے سے گئی لیکن اب انتخابات ہی کرائے جائیں،
اب عمران خان اسمبلی میں نہیں ہیں اور نیب ترامیم جیسی قانون سازی متنازع ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں عمران خان کا حق دعوی ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ نہیں بنتا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے