پاکستان

ہسپتال کا پیسہ آف شور کمپنیوں میں لگانے کا بعد میں علم ہوا: عمران خان

فروری 12, 2023

ہسپتال کا پیسہ آف شور کمپنیوں میں لگانے کا بعد میں علم ہوا: عمران خان

مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے خلاف ہتک عزت کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’شوکت خانم ہسپتال کے فیصلوں کا مجھے معلوم نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’شوکت خانم ہسپتال کے مالی فیصلوں کی آڈٹ رپورٹ ہوتی ہے۔ شوکت خانم ہسپتال کا بورڈ جو فیصلے کرتا ہے مجھ سے پوچھ کر نہیں کرتا۔‘

سابق وزیراعظم عمران خان سنیچر کو ویڈیو لنک کے ذریعے اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں پیش ہوئے جہاں خواجہ آصف کے وکیل نے ان پر جرح کی۔

دورانِ جرح عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ’یہ بات درست ہے کہ 30 لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری 2008 میں کی گئی تھی۔ سرمایہ کاری کرنے والی رقم 2015 میں شوکت خانم کو واپس دے دی گئی تھی۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’تین ملین ڈالرز کی رقم سات سال ایچ بی جی گروپ کے پاس رہی جس کے چیف ایگزیکٹیو امتیاز حیدری ہیں، امتیاز حیدری اس کمیٹی میں شامل تھے جنہوں نے تین ملین ڈالرز کی رقم سرمایہ کاری کرنے کے لیے منظور کی۔‘

’امتیاز حیدری نے یہ منظوری ذاتی فائدے کے حصول کے لیے نہیں دی۔‘

خواجہ آصف کے وکیل نےعمران خان سے سوال کیا کہ کیا آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کا آپ کو معلوم ہے؟

اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ ’شوکت خانم ہسپتال کے فیصلوں کا مجھے معلوم نہیں، شوکت خانم ہسپتال کے مالی فیصلوں کی آڈٹ رپورٹ ہوتی ہے، شوکت خانم ہسپتال کا بورڈ جو فیصلے کرتا ہے مجھ سے پوچھ کر نہیں کرتا۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’مجھے اب معلوم ہوا ہے کہ دو آف شور کمپنیوں میں شوکت خانم ہسپتال کا پیسہ انویسٹ کیا گیا۔ شوکت خانم ہسپتال کے فیصلوں کا مجھے معلوم نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مجھے جتنا معلوم ہے کہ شوکت خانم ہسپتال کی سرمایہ کاری سے فائدہ ہی ہوا، شوکت خانم ہسپتال کی رپورٹ میں جو لکھا ہے، ٹھیک ہے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے