پاکستان

وزارت دفاع کے لیے مزید 45 کروڑ، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظور

فروری 12, 2023

وزارت دفاع کے لیے مزید 45 کروڑ، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظور

پاکستان میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جاری مالی سال میں (کنٹونمنٹ بورڈ والٹن اور لاہور) میں ترقیاتی سکیموں پر عملدرآمد کے لیے وزارت دفاع کو 45 کروڑ روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ (TSG) کی منظوری دے دی ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ای سی سی کے اجلاس میں وزارت دفاع کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر 450 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔

اقتصادی امور کے ماہر قیصر بنگالی کے مطابق اجلاس کے بعد جاری کیے گئے 600 الفاظ کے بیان میں بتایا گیا کہ توانائی اور ادویات کی قیمتیں بڑھائی جائیں گی جبکہ آخری 20 الفاظ کے جملے میں وزارت دفاع کے لیے اضافی 45 کروڑ یا 450 ملین روپے کی گرانٹ کی منظوری کا ذکر ہے۔

پاکستان میں ان دنوں بدترین مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے اور حکومت آئی ایم ایف کے قرض پروگرام میں واپسی کے لیے بجلی اور گیس پر سبسڈی ختم کرر ہی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کیبنٹ ڈویژن نے اپنے ترقیاتی اخراجات سے 450 ملین روپے کے فنڈز وزارت دفاع کے حق میں سرنڈر کر دیے ہیں جس سے وہ پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت صوبہ پنجاب میں سکیموں پر عملدرآمد کے لیے اس کے مساوی رقم حاصل کر سکے گا۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سٹیئرنگ کمیٹی نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے لیے 12 اکتوبر 2022 کو ہونے والے اپنے اجلاس میں 450 ملین روپے کے فنڈز کو سرنڈر آرڈر کے ذریعے جاری کرنے کی سفارش کی تھی جس میں پائیدار ترقیاتی اہداف گائیڈ لائنز کے مطابق 13 جون 2022 کو نوٹیفائیڈ کیا گیا تھا۔

کابینہ ڈویژن (ڈویلپمنٹ ونگ) نے کہا کہ وزارت دفاع (کنٹونمنٹ بورڈ) کے حق میں 450 ملین روپے کے فنڈز اسلام آباد کے حوالے کرنے کا معاملہ 14 دسمبر 2022 کو ہونے والے پائیدار ترقیاتی اہداف پر سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں زیر بحث آیا اور غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ کنٹونمنٹ بورڈز اسلام آباد میں نہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے