فوجی عدالت دو ریٹائرڈ افسران کی اپیلوں کا ایک ماہ میں فیصلہ کرے:ہائیکورٹ
لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے دو ریٹائرڈ فوجی افسران (سویلین) کی اپیلوں پر فوجی عدالت کو ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ انعام الرحیم نے عدالت کو بتایا کہ لیفٹیننٹ کرنل(ر ) محمد اکمل اشرف اور لیفٹیننٹ کرنل(ر)فیض رسول،دونوں ریٹائرڈ افسر ہیں،آئی ایس آئی میں نوکری کرتے رہے ہیں،ریٹائرمنٹ کے دس سال بعد اگست 2020 میں انہیں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اغواء کیا،زیرتحویل ٹرائل کیا گیا،فیلڈ جنرل کورٹ مارشل سے مذکورہ افسران میں سے ایک کو دس سال اور دوسرے کو تیرہ سال سزا سنا دی گئی۔
انہوں عدالت کو بتایا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود ملٹری کورٹ آف اپیل میں مذکورہ افسران کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر نہیں کی گئیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ درخواست گزار ہائیکورٹ سے رجوع نہیں کر سکتے اگر ملٹری کورٹ اف اپیل فیصلہ نہ کرے،یہی باعث ہے کہ ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔
عدالت عالیہ کے جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ایک سال سے ملٹری کورٹ آف اپیل میں یہ اپیلیں سماعت کیلئے کیوں نہیں لگائی گئیں؟ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہاں مقدمات بہت ذیادہ ہیں۔
عدالت نے کہا کہ یہ تفصیلات فراہم کریں کہ وہاں کتنے مقدمات ہیں،ایک سال میں بھی ان کے پاس وقت نہیں ہے؛کیا انہوں نے فیصلہ لکھنا ہوتا ہے۔درخواست گزاروں کے کونسل انعام الرحیم نے بتایا کہ وہاں صرف منظور یا مسترد لکھنا ہوتا ہے،دو لائنیں لکھنے کیلئے ایک سال لگا دیا گیا ہے۔
جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے ریمارکس دیئے کہ جو بھی فیصلہ کرنا ہے وہ فیصلہ کریں، آپ لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ عدالتیں کام نہیں کرتیں،ہم تو سو سو مقدمات روزانہ سنتے ہیں،آپ دو مقدمات لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔
درخواستوں گزاروں کے کونسل کا کہنا تھا کہ دونوں ریٹائرڈ افسران تھے،ریٹائرمنٹ کے دس سال بعد انہیں اغواء کیا گیا جبکہ ہائیکورٹ حسنین انعام کیس (2002) میں یہ واضح فیصلہ دے چکی ہے کہ آرمی کسی سویلین کو نہ تو گرفتار کر سکتی ہے اور نہ ہی ٹرائل کر سکتی ہے،سپریم کورٹ بھی یہی قرار دے چکی ہے،عدالتی فیصلوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے یہ سلسلہ جاری ہے اور کوئی جواب ہی نہیں دیا جا رہا۔جس پر عدالت نے ناراضگی کا اظہار کیا۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد مذکورہ حکم جاری کر دیا۔
قبل ازیں نے مذکورہ دونوں سابق افسران نے ایڈووکیٹ انعام الرحیم،ملک وحید اختر،ڈاکٹر محمد عثمان اور عبدالباسط تنولی کے توسط سے دائر کردہ درخواست میں وفاق بذریعہ سیکرٹری وزارت دفاع،جج ایڈووکیٹ جنرل،شعبہ جیگ جی ایچ کیو،راولپنڈی اور رجسٹرار کورٹ آف اپیل،شعبہ جیگ جی ایچ کیو،راولنڈی کو فریق بنایا تھا۔
درخواست میں مقدمات کے حقائق اور دونوں افسران کے اغواء،انہیں غیرقانونی حراست میں رکھنے اور ٹرائل کا پس منظر بیان کیا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت دونوں افسران پر مقدمہ چلایا۔ درخواست گزاروں کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، گرفتاری اور نظر بندی قانون کے لحاظ سے غیر قانونی تھی۔اس معزز عدالت نے حسنین انعام بمقابلہ فیڈریشن کے کیس میں یہ قرار دیا تھا کہ ملٹری کسی سویلین کو گرفتار یا ٹرائل کرنے کی مجاذ نہیں ہے۔
اس حقیقت کے باوجود کہ درخواست گزار ریٹائرڈ فوجی افسر اور سویلین ہیں،فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم ) مقدمہ چلانے کا مجاذ فورم نہ تھا، انہیں سزائیں سنائی گئیں۔ایک سال گزرنے کے باوجود نہ تو فیصلے کی مصدقہ نقول فراہم کی گئیں اور نہ ہی ملٹری کورٹ آف اپیل میں سماعت ہوئی۔
درخواست میں اعلی عدالتی فیصلوں کے نظائر پیش کئے گئے اور بین الاقوامی قوانین کے بھی حوالے دیئے گئے ہیں

