ریفرنڈم میں دھاندلی سے انکاری جرنیل کے ضبط اثاثوں کی بحالی کا فیصلہ
لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس جواد نے فوجی آمر پرویز مشرف کے ریفرنڈم میں دھاندلی کا حکم نہ ماننے کی پاداش میں ایک میجر جنرل کے اثاثہ جات کی ضبطگی کے خلاف درخواست واپس لینے پر نمٹا دی۔
فوج کی موجودہ کمان نے ایک مستحسن فیصلہ کرتے ہوئے ماضی کی غلطی کا ازالہ کر دیا اور ایک میجر جنرل (ر) کے خاندان کو ضبط اثاثے جاری کرنے کا حکم دیا۔
تفصیلات کے مطابق میجر جنرل (ر) احسن احمد، تمغہ امتیاز (ملٹری) اور ہلال امتیاز نے 34 سال فوج میں خدمات سر انجام دیں اور 13 ستمبر 1999 کو ریٹائر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بطور وفاقی سیکرٹری صحت اور اس کے بعد صوبہ سندھ میں وزیر صحت کے عہدے پر بھی فائز رہے۔
میجر جنرل (ر ) احسن احمد کا 2002 میں ریفرنڈم کے معاملے پر پرویز مشرف سے اسوقت اختلاف ہوا، جب اکتوبر 2002 میں انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا گیا، اور مشرف نے دونوں مرکزی دھارے کی جماعتوں پی پی پی اور مسلم لیگ کو سائیڈ لائن کرنے کی خواہش ظاہر کی لیکن ریٹائرڈ جنرل نے اس خیال کی مخالفت کی اور 23 اکتوبر 2002 کو استعفیٰ دے دیا۔
فوجی آمر پرویز مشرف نے ریفرنڈم میں دھاندلی کا حکم نہ ماننے کی پاداش میں مذکورہ جنرل کی تمام جائیداد،
گھر، پلاٹ اور 50 ایکڑ زرعی اراضی ضبط کر لی۔
میجر (ر) جنرل احسن احمد نے اثاثہ جات کی ضبطگی کے خلاف 2015 کے دوران ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں سابق آرمی چیف جنرل کیانی سے ملاقات کی۔جنرل راحیل شریف اور جنرل باجوہ سے بھی رابطہ کیا لیکن سب نے انکار کر دیا۔
اسی دوران جنرل احسن وفات پا گئے،جنرل باجوہ نے متوفی جنرل کی بیوہ کو بھی اثاثے جاری کرنے سے انکار کر دیا۔
گزشتہ تاریخ سماعت پر عدالت عالیہ کے جسٹس جواد نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا کہ اس قانون سے آگاہ کریں جس کے تحت ریٹائرڈ آفیسر کے اثاثے ضبط کیے گئے؟
7 مارچ کو جی ایچ کیو کے افسر نے بیان دیا کہ مذکورہ جنرل کے خاندان کو ضبط اثاثے خوش اسلوبی سے جاری کر دیئے گئے ہیں۔
میجر جنرل ریٹائرڈ احسن احمد کے بیٹے نے اپنے وکیل کرنل انعام الرحیم کے ساتھ نئی کمان کے فیصلے پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے رٹ واپس لے لی.

