تحریک انصاف کےکارکن علی بلال کی موت تشدد سے نہیں ہوئی: پنجاب حکومت
پنجاب کے نگراں وزیراعلٰی محسن نقوی نے کہا ہے کہ ان کے پاس رپورٹ آئی کہ تحریک انصاف کےکارکن علی بلال کی موت تشدد سے نہیں ہوئی۔
سنیچر کو آئی جی پنجاب کے ہمراہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مجھ پر پہلے سازش اور اب قتل کا الزام لگایا گیا، کسی پر قتل کا الزام لگانا اتنا آسان ہے؟‘
آئی جی پنجاب نے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ علی بلال کی لاش چھ بج کر 52 منٹ پر سروسز ہسپتال چھوڑی گئی۔ کالے رنگ کی گاڑی سروسز ہسپتال آنے کی ویڈیو رپورٹ ہوئی۔
آئی جی پنجاب عثمان انور کا کہنا تھا کہ ’اس شخص کو مارنے کی سازش نہیں تھی۔ فیصلہ کیا گیا کہ پولیس تشدد کے شواہد ملے تو کارروائی کی جائے گی۔‘
انہوں نے بتایا کہ گاڑی کے مالک کا نام راجا شکیل ہے، ڈرائیور کا نام جہانزیب ہے۔ ’یہ تمام لوگ گرفتار ہو گئے، انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔‘
آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ ’پولیس کی زیادتی ثابت ہوئی تو کارروائی کی جائے گی۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی ویڈیو جعلی ہے۔‘
علی بلال عرف ضلے شاہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مرنےوالے کے جسم پر زخموں کے نشان تھے.

