پاکستان

اگر عمران خان کو لائسنس ٹو کِل دیا گیا تو 22 کروڑ کو دینا ہوگا: حکومت

مئی 11, 2023

اگر عمران خان کو لائسنس ٹو کِل دیا گیا تو 22 کروڑ کو دینا ہوگا: حکومت

پاکستان کی وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان کو لائسنس ٹو کل دیا گیا تو 22 کروڑ عوام کو لائسنس ٹو کل دینا پڑے گا، نیب کی تاریخ میں پہلا جسمانی ریمانڈ کا ملزم ہے جس کی اپیل 48گھنٹے میں سماعت کے لئے لگائی گئی، عدالتیں جب دہشت گرد، مسلح جتھے اور مجرموں کی پناہ گاہیں بنیں گی تو پھر گرفتاریاں بھی عدالتوں سے ہی ہوں گی.

جمعرات کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اگر عمران خان کو لائسنس ٹو کل دیا گیا تو بائیس کروڑ عوام کو لائسنس ٹو کل دینا پڑے گا، اس ملک دشمنی پر ریلیف دینا دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے کے مترادف ہے،نیب کی تاریخ میں پہلا جسمانی ریمانڈ کا ملزم ہے جس کی اپیل 48گھنٹے میں سماعت کے لئے لگائی گئی، عدالتیں جب دہشت گرد، مسلح جتھے اور مجرموں کی پناہ گاہیں بنیں گی تو پھر گرفتاریاں بھی عدالتوں سے ہی ہوں گی، دہشت گردوں، مسلح جتھوں اور ملک دشمنی کی حوصلہ افزائی کرنے والے بھی مجرم کہلائیں گے، عمران خان کو عدالت بلائے تو کوئی کھڑکی اور دروازہ نہیں بچتا، اسے وارنٹ دکھائیں تو پٹرول بموں سے استقبال کیا جاتا ہے اور کوئی ہڈی نہیں بچتی، قانون کے مطابق گرفتاری ہو گی تو نوکری نہیں بچتی، مریض، پولیس، مسجد، سکول، ہسپتال ،شہدا اور غازیوں کی یادگاروں کو انصاف کون دے گا؟ اگر یہی کچھ ہو گا تو پھر عدالتیں ، تھانے اور ادارے سب بند کرکے کرپشن کو قانونی قرار دے دیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ پچھلے تین دن سے ملک کے اندر چند سو مسلح جتھے اور دہشت گرد حساس اداروں، ریاستی املاک، مساجد، ہسپتالوں اور سکولز پر حملہ آور ہیں، عمران خان نے ساٹھ ارب روپے کی قومی خزانے سے چوری کی، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کو نیب نے تحقیقات کے لیے گرفتار کیا، عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک میں دہشت گرد اور مسلح جتھے ریاستی اور عوامی املاک پر حملہ آور ہوئے، پی ٹی آئی کی قیادت نے ان مسلح جتھوں کو تشدد پر اکسایا۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے قانونی طریقے سے عمران خان کو گرفتار کیا اور احتساب عدالت میں پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک مجرم، دہشت گرد، مسلح جتھوں کے گینگسٹر کو ریلیف دیا جا رہا ہے۔ اس ملک کے تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم نواز شریف، آصف علی زرداری، شاہد خاقان عباسی، رانا ثنااللہ، سلمان شہباز، حمزہ شہباز، مفتاع اسماعیل سمیت دیگر لوگوں کی بہنوں اور بیٹیوں کو گھسیٹ کر جیلوں میں ڈالا جاتا رہا، ان پر جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے، اس وقت کسی نے نوٹس نہیں لیا، اس لاڈلے نے سپریم کورٹ کے باہر گندی شلواریں لٹکائیں اور اسے صادق و امین کے سرٹیفیکیٹ دیئے گئے، اگر اس وقت ایسا نہ کیا جاتا تو آج عدلیہ کی بے توقیری نہ ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ جب عدالت وارنٹ نکالتی ہے اور پولیس اس پر عمل درآمد کے لئے زمان پارک پہنچتی ہے تو اس کا پٹرول بموں کے ساتھ استقبال کیا جاتا ہے۔ اس وقت بھی پولیس والوں کے سر پھاڑے گئے، پولیس کی گاڑیاں جلائی گئیں، لاہور شہر کو جلایا گیا، اس وقت اگر عدالت نے اپنے وارنٹ کی تعمیل کروائی ہوتی تو آج عدالت کی بے توقیری نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جب آئین شکنی کی اور سپریم کورٹ نے اس کے خلاف فیصلہ دیا تو اس وقت چیف جسٹس آف پاکستان کی تصویر پر جوتیاں ماری جا رہی تھیں، اس وقت عدالت کی بے توقیری ہوئی، اگر اس وقت عدالت نے اپنی عزت کرائی ہوتی تو آج یہ ملک جل نہ رہا ہوتا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جو ریاست کی خاطر بندوق اٹھاتے ہیں، سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں، شہید ہوتے ہیں اور غازی بنتے ہیں، ان کی بے توقیری پر انصاف کون دے گا؟ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حالیہ پرتشدد واقعات میں کور کمانڈر کے گھر کو جلایا گیا، مریضوں کو نکال کر ایمبولینسوں کو آگ لگا دی گئی، مسجدیں اور میٹرو اسٹیشن جلائے گئے، اگر اس دہشت گرد کو سزا مل جاتی تو آج یہ ملک نہ جل رہا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح جتھوں کی قیادت کرنے والا دہشت گرد ہے۔ ایک مجرم کی گرفتاری پر مسلح جتھوں نے سڑکیں بند کیں، ایمبولینسیں جلائیں، مساجد اور ہسپتال جلائے، ریڈیو پاکستان کی عمارت کو جلایا، رانا ثنااللہ کے گھر کو جلایا گیا، اس پر کیوں نوٹس نہیں لیا گیا، کیا وہ پاکستان کے شہری نہیں ہیں، کیا کور کمانڈر اس ملک کا شہری نہیں ہے، کیا پولیس اہلکار جن کے سر پھاڑے گئے، وہ اس ملک کے شہری نہیں، ایمبولینس جلائی گئی، کیا وہ پاکستان کی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارت میں اس ملک دشمنی پر شادیاں بج رہے ہیں، گزشتہ پچھتر سالوں میں جو کام بدترین دشمن نہیں کر سکا وہ عمران خان نے کر دکھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نیب کا مجرم ہے، القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں گرفتار ہیں، اس کیس کی تحقیقات ہو رہی ہیں اور عمران خان جسمانی ریمانڈ پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان نے اپنے دور میں نواز شریف، ان کی بیٹی اور رانا ثنااللہ کو سزائے موت کی چکی میں رکھا ہوا تھا، اس وقت ہم دہائیاں کر رہے تھے کہ یہ غیر قانونی کیسز بنا کر جھوٹ بولا جا رہا ہے لیکن اس وقت کسی نے نوٹس نہیں لیا اور آج جو ریاست پر بندوق اٹھا کر حملہ آور ہے، اس کو ریلیف دیا جا رہا ہے، اگر اس طرح ریلیف دینا ہے تو پھر کچہریاں، عدالتیں، تھانے بند کر دیئے جائیں، اس ملک کے اندر نہ قانون ہوگا ، نہ عدالتیں ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک فاضل جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس مجرم کو گرفتار کرنے جاتے ہیں تو وہ حملہ آور ہوتا ہے، پٹرول بم پھینکتا ہے، پتھروں سے حملہ کرتا ہے اور گولیاں برساتا ہے، اس کو کیسے گرفتار کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے قانونی قرار دیا، جب احتساب عدالت نے اس کو ریمانڈ پر بھیجا ہے تو پھر اسے کیوں بلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح پہلے کتنے ملزموں اور مجرموں کو بلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تین دن سے میڈیا پر چل رہا ہے کہ ملک کو ایک شخص نے یرغمال بنا رکھا ہے، جتھوں کو استعمال کر رہا ہے، حملہ آور ہو رہا ہے، لوگوں کے گھروں، ریاستی اداروں پر حملہ آور ہے، مسلح جتھوں کے ذریعے تشدد کر رہا ہے، اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ گرفتار کیسے کیا؟ اس کی گرفتاری پر تو بات کی جا رہی ہے لیکن اس 60 ارب روپے کی کرپشن پر کوئی گفتگو نہیں کی جاتی اور یہ نہیں پوچھا جاتا کہ عمران خان صاحب آپ پر الزام ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کے تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم، ان کی بیٹی، بھائی اور بچوں نے چالیس سال کا حساب دیا ہے تو عمران خان کیوں نہیں دے سکتا ہے، یہ کہاں کی محبت اور لاڈلا پن ہے، پاکستان کے عوام اس کا جواب مانگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پر القادر ٹرسٹ کرپشن کا الزام ہے، اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، انہیں نیب کے اندر اس پر جواب دینے دیں۔ اس پر تحقیقات ہو رہی ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلح جتھوں کے ذریعے ملک کو جلانے کی کوشش جمہوری رویہ نہیں، جمہوری رویے مسجدوں کو نہیں جلاتے، ریاستی اداروں پر حملہ آور نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس چور، ڈاکو، نالائق کرپٹ فتنے کے خلاف چار سال تک سڑکوں پر احتجاج کیا، کوئی ایسا واقعہ نہیں پیش نہیں آیا جس سے عوامی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچا ہو۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اگر ریلیف دیا گیا تو یہ ملک کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوگی، آج یہ فیصلہ کن گھڑی ہے، ہمیں بحیثیت قوم فیصلہ کرنا ہوگا، یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، ہر آئینی ادارے اور ہر اس فرد اور منصب کی ذمہ داری ہے جو ملک سے محبت کرتا ہے۔

صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان القادر ٹرسٹ کے ٹرسٹی ہیں، 60 ارب روپے کی کرپشن کا ان پر الزام ہے، انہیں اس پر جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ملک کو بنایا ہے، مسلح جتھوں نے ہماری بنائی ہوئی موٹر وے جلائی، ہم نے جو ہسپتال بنائے انہوں نے جلائے، سروسز ہسپتال تک کو آگ لگا دی، سکولوں کو آگ لگا دی، بچوں کا کیا قصور تھا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ریلیف دینے کی بجائے اس جلا گھیراؤ پر ان سے پوچھنا چاہئے۔ انہوں نے شہدااور غازیوں کی بے حرمتی کی، پولیس اہلکاروں کے سر پھاڑے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف فیصلے کرنے والے آج خود کہہ رہے ہیں کہ یہ فیصلے غلط ہوئے تھے، نواز شریف کو جب نااہل کیا گیا تھا تو اس وقت وہ جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور گئے تھے، اس دوران کسی سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان نہیں پہنچا، ایک پتہ تک نہیں ہلا تھا، یہ ہوتا ہے سیاسی احتجاج۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ریلیف لائسنس ٹو کل ہوگا، اس طرح کے ریلیف کے بعد سب کو مساوی ریلیف دینا چاہئے۔ جیل اور تھانے خالی کر دینے چاہئیں، کرپشن کو قانونی کر دینا چاہئے، قومی خزانے کو کوئی جتنا نقصان پہنچائے، اسے پہنچانے دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان جن کو چور کہتا تھا ان کے خلاف ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی لیکن جب اسے جواب دینا پڑا تو اس نے پولیس والوں کے سر پھاڑے، مسجدیں توڑیں، ہسپتال جلائے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی میں کوئی دخل اندازی نہیں کر سکتا، پارلیمنٹ کی بالادستی میں دخل اندازی آئین توڑنے کے مترادف ہے، اگر پارلیمنٹ کے اندر پی اے سی اور پارلیمنٹری کمیٹیوں کا ریکارڈ طلب کیا جاتا ہے تو وہ پارلیمنٹ کے قانون کے تحت پیش ہوتا ہے، پارلیمنٹ کی قانون سازی یا کارروائی میں مداخلت آئین کی بے توقیری اور آئین توڑنے کے مترادف ہے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے