شرپسندوں پر کریک ڈاؤن جاری، شیریں مزاری اور یاسمین راشد بھی گرفتار
پاکستان میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تین دن سے ملک میں فسادات پر اُکسانے والے سیاست دانوں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
جمعے کو اسلام آباد میں شیریں مزاری اور لاہور میں یاسمین راشد کو حراست میں لے کر نظربند کیا گیا۔
تحریک انصاف سے منسلک یوٹیوبر عمران ریاض اور ٹی وی اینکر آفتاب اقبال کو جمعرات کو حراست میں لیا گیا تھا۔
پنجاب پولیس کے مطابق سرکاری و نجی اداروں پر حملوں، توڑ پھوڑ، تشدد اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 2560 سے زائد شرپسند عناصر گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
بیان کے مطابق شرپسند عناصر کی پرتشدد کاروائیوں میں پنجاب بھر میں 150سے زائد پولیس افسران واہلکار زخمی ہوئے۔
زخمیوں میں مختلف شہروں سمیت لاہور کے 63،فیصل آباد 26، گوجرانوالہ 13،راولپنڈی کے 29 پولیس افسران و اہلکار شامل ہیں۔ زخمیوں میں اٹک کے 10، سیالکوٹ 05 اور میانوالی کے 06 پولیس افسران و اہلکار شامل ہیں۔
پنجاب پولیس کے زیر استعمال 72 جبکہ 08 نجی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ، نذر آتش کیا گیا۔ لاہور میں 23،راولپنڈی 18، فیصل آباد 18،ملتان 08، سیالکوٹ 5،گوجرانولہ 03،اٹک میں 01 پولیس وہیکل کو نقصان پہنچایا گیا۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق سرکاری و نجی املاک، پولیس و شہریوں پر حملوں، پر تشدد کاروائیوں میں ملوث شرپسند عناصر قانون کی گرفت سے بچ نہیں پائیں گے۔

