پاکستان

ارشد شریف کے قتل میں عمران خان سے تفتیش کی جائے، مقتول صحافی کی والدہ سپریم کورٹ میں

جون 8, 2023

ارشد شریف کے قتل میں عمران خان سے تفتیش کی جائے، مقتول صحافی کی والدہ سپریم کورٹ میں

کینیا میں قتل کیے گئے پاکستانی صحافی ارشد شریف کی والدہ نے سُپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ اُن کے بیٹے کے مقدمے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور اے آر وائے ٹی وی کے مالک سلمان اقبال کو شامل تفتیش کیا جائے۔

متفرق درخواست میں مقتول صحافی کی والدہ نے کہا کہ فیصل واوڈا، مراد سعید اور عمران ریاض کو بھی ارشد شریف قتل کیس میں شامل تفتیش کیا جائے۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ جے ائی ٹی سربراہ کو پانچ افراد کو تحقیقات میں شامل کرنے کا حکم دے اور جے ائی ٹی کی رپورٹس فراہم کرنے کی ہدایت کرے.

ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس میں مقتول کی والدہ نے متفرق درخواست میں کہا کہ اُن کے بیٹے کے قتل سے متعلق ان تمام افراد سے شواہد حاصل کیے جائیں۔

ارشد شریف کی والدہ نے کہا کہ مقدمے کی حساسیت اور اہمیت کے پیش نظر سپریم کورٹ کے اقدام کو سراہتی ہوں۔ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات پاکستان میں ہونے والی سازش سے شروع کی جائیں۔

والدہ کے مطابق کئی افراد نے ارشد شریف کے قتل کی سازش کے بارے میں جاننے کا دعوی کیا ہے، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی رپورٹ اور نہ ہی جے آئی ٹی رپورٹ فراہم کی گئی۔

خیال رہے مقتول صحافی کے سوموٹو کیس کی سماعت دو ماہ سے نہیں ہو سکی.

قبل ازیں سپریم کورٹ نے صحافی ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات میں پیش رفت نہ ہونے اور عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکامی پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا عندیہ دیا تھا.

عدالت عظمیٰ سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے تحریری حکم نامے کے مطابق 17 مارچ کو ہونے والی سماعت کے موقع پر سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی بطور وکیل، مرحوم ارشد شریف کی والدہ، بیوی اور پانچ بچوں کے توسط سے عدالت میں پیش ہوئے۔

انہوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جیسے کہ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے خصوصی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کردی گئی ہے تو اس تحقیقات کی عدالتی نگرانی حقیقتاً جائز نہیں ہے۔

وکیل کا کہنا تھاکہ عدالت بالخصوص مفاد عامہ پر اثرانداز ہونے والے معاملات پر نظر تو رکھ سکتی ہے لیکن اس کی باقاعدہ نگرانی نہیں کر سکتی۔

شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ موجودہ ازخود نوٹس نے عوامی اہمیت کے حامل کئی سوالات کھڑے کیے ہیں جن کا براہ راست تعلق صحافی برادری اور پاکستان کے عوام کے بنیادی حقوق سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پانچ دسمبر 2022 کو سوموٹو کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تھا تو یہ مشاہدہ کیا گیا تھا کہ صحافیوں اور عوام کے پانچ ہزار سے زائد خطوط عدالت کو موصول ہوئے تھے جنہوں نے صحافی ارشد شریف قتل کیس کی صاف اور شفاف تحقیقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے