وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں میں 35 فیصد اضافہ اور دفاعی اخراجات بڑھ گئے
پاکستان کی وفاقی حکومت نےآئندہ مالی سال 24-2023 کے لیے مجموعی طور پر 14 ہزار پانچ سو ارب روپے مالیت کے حجم کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔
چھ ہزار ارب روپے سے زائد خسارے کا وفاقی بجٹ کابینہ کے خصوصی اجلاس میں منظوری کے بعد پارلیمان میں پیش کیا گیا.
مالی سال2023-24 کے بجٹ میں غیرمنقولہ جائیداد خریدنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر عائد دو فیصد پراپرٹی ٹیکس ختم کرنے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔
جمعے کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ’یہ اقدام ترسیلاتِ زر کو فورغ دینے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’بیرونِ ملک سے بھیجی جانے والی رقوم کے لیے ایک نئے ’ڈائمنڈ کارڈ‘ کا اجراء کیا جا رہا ہے اور یہ سالانہ 50 ہزار ڈالر سے زیادہ رقم بھیجنے والوں کو جاری کیا جائے گا۔‘
ڈائمںڈ کارڈ ہولڈر کو جو مراعات دی جائیں گی ان میں ایک غیرممنوعہ ہتھیار کا لائسنس، گریٹیز پاسپورٹ، پاکستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں ترجیحی بنیادوں پر رسائی اور پاکستانی ایئرپورٹس پر تیز ترین امیگریشن کی سہولت شامل ہیں۔
وزیر خزانہ نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ ’ریمینٹنس کارڈ ہولڈرز کو قرعہ اندازی کے ذریعے بڑے انعامات دینے کے لیے سکیم کا اجراء بھی کیا جائے گا۔‘
وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا.
بجٹ میں 700 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔
وفاقی حکومت نے بجٹ برائے مالی سال 24-2023 کو منظوری کے لیے کابینہ کے خصوصی اجلاس میں پیش کیا۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نےقو می اسمبلی میں بجٹ تقریر میں کہا کہ وزیراعظم یوتھ لون سکیم کے تحت چھوٹے کاروبار کو رعایتی قرضوں کی فراہمی کے لیے 10 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے.
اسحاق ڈار نے کہا کہ 50 ہزار زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ معیاری بیج کی درآمد پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹیز کو ختم کیا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا پروگرام حکومت کی ترجیح ہے۔
بجٹ میں گریڈ ایک سے سولہ تک کے ملازمین تنخواہوں میں 35 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ گریڈ 17 سے 22 تک کے ملازمین کی تنخواہ میں 30 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
پینشن میں ساڑھے 17 فیصد کے اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
کم از کم اجرت 30 ہزار کی تجویز دی گئی ہے۔
دفاعی بجٹ کے لیے 1804 ارب روپے مختص کر دیے گئے.

