روس کا تیل بردار جہاز پاکستان پہنچ گیا، کیا پیٹرول سستا ہوگا؟
روس سے خام تیل لے کر پہلا جہاز پاکستان کے شہر کراچی کی بندرگاہ پر پہنچ گیا ہے۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہاکہ روس کا پہلا تیل بردار جہاز کراچی کی بندرگاہ پر پہنچ گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق 183 میٹر لمبے روسی جہاز پیور پوائنٹ میں 45 ہزار 142 میٹرک ٹن تیل موجود ہے۔
دو ہفتے قبل پاکستان کے وزیر مملکت برائے پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے روسی خام تیل کی امپورٹ کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کے سستا ہونے کی خوشخبری دی تھی۔
30 مئی کو ’پاکستان انرجی کانفرنس 2023‘ میں اپنے ویڈیو پیغام میں مصدق ملک نے کہا تھا کہ ’بحری جہاز عمان پہنچ چکے ہیں اور پاکستان کو سستے تیل کی سپلائی ایک ہفتے میں شروع ہو جائے گی۔‘
مصدق ملک نے کہا تھاکہ روس سے سستا تیل پاکستان آنے والا ہے۔ جیسے ہی روس سے تیل آئے گا، قیمتیں کم ہونا شروع ہو جائیں گی۔‘
پاکستان میں توانائی کے شعبے کا زیادہ تر دار و مدار درآمد ہو کر آنے والے ایندھن پر ہے جبکہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیتمیں ابھی تک کافی زیادہ تصور کی جا رہی ہیں۔
سستے روسی خام تیل کی درآمد کی خبروں کے درمیان پاکستان میں یہ سوال زیرِ گردش ہے روسی خام تیل پاکستان آنے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کتنی کمی متوقع ہے؟ اس سے پاکستان کی مجموعی معاشی حالت میں کیا فرق پڑ سکتا ہے؟ کیا پاکستان کی آئل ریفائنری کے پاس اس خام تیل کو پراسس کرنے کی صلاحیت بھی ہے یا نہیں؟
ان سوالات کے واضح جواب اگلے چند ماہ میں ہی مل سکیں گے.

