پاکستان

فیض حمید نے سینیٹ کا چیئرمین بنانے کی پیشکش کی تھی:مولانا فضل الرحمان

جولائی 9, 2023

فیض حمید نے سینیٹ کا چیئرمین بنانے کی پیشکش کی تھی:مولانا فضل الرحمان

پاکستان کے حکومتی اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اُن کو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید نے سینیٹ کا چیئرمین بنانے کی پیشکش کی تھی۔

پشاور میں سینیئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران غیر رسمی گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’ایک بار جنرل (ر) فیض حمید ملے اور کہا کہ آپ کو سینیٹ کا رکن اور پھر چیئرمین دیکھنا چاہتا ہوں اور آپ نے سسٹم کے اندر تبدیلی لانی ہے، مگر میں نے انکارکر دیا۔‘

جے یو آئی کے سربراہ جو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نامی سیاسی اتحاد کے بھی صدر نے دبئی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی اعلٰی قیادت کی ملاقاتوں پر بھی بات کی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن پی ڈی ایم کا حصہ ہے، دبئی میں ملاقات پراعتماد میں نہیں لیا گیا، اتنا بڑا قدم اٹھانے پر ہم سے مشاورت نہیں کی گئی، یہ سوال میرے ذہن میں ہے۔‘

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ 2018 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی، جے یو آئی اپوزیشن کو لے کر چلی ہے، ہمیں حلف نہیں اٹھانا چاہیے تھا جب ہم نے کہا کہ اسمبلی جعلی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ ہمارا مؤقف تھا پارلیمنٹ میں نہ جاؤ، عدم اعتماد پیش نہ کرو، چاہتے تھے روڈ پرآئیں اور حکومت کو مستفی ہونے پر مجبور کریں۔

مولانا فضل الرحمان نے بتایاکہ برطانوی سفیر نے کہا گرفتاریوں پر تشویش ہے، اس پر میرا جواب تھاکہ آپ کی پارلیمنٹ پرحملہ ہوتا تو کیا کرتے؟گرفتاریوں پرآپ کو تشویش اس وقت ہوتی جب ایک بیٹی کو باپ سے نہیں ملنے دیا جا رہا تھا، بغاوت کے زمرے میں جو بات آتی ہے اس پر ریاست ایکشن لے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک ماہ بعد مرکز کی حکومت کی مدت پوری ہوجائے گی، وزیراعظم نے واضح کردیا ہے مدت پوری کرنے پر حکومت چھوڑ دیں گے، اس کے بعد الیکشن کی طرف جانا ہوگا، اس حوالے سے مشکلات کا بھی سامنا ہے۔

آئی ایم ایف کے حوالے سے سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھاکہ قرضوں کا بوجھ بھی اب کم ہونا شروع ہوگیا ہے، دوست ممالک کی مدد اور آئی ایم ایف سے بھی مدد مل چکی ہے، معاشی بہتری کے ساتھ قیمتوں میں کمی آئے گی اوربہتری کی طرف سفر شروع ہوچکاہے۔

ان کا کہنا ہےکہ الیکشن وقت پر ہوں گے، قوم سے امید ہے دوبارہ ملک کوکسی آزمائش میں نہیں ڈالیں گے، ملک کو تباہی سے دوچار کرنے والوں سے نجات کےلیے سخت فیصلے کرنے ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی ترجیحات سمجھ نہیں آ رہیں، جو دنیا ہمارے دین کی توہین کرتی ہے، وہی چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں بات کرتی ہے، عمران خان سی پیک اور سرمایہ کاری روکتا ہے اس کےقول وفعل میں تضاد ہے، ہم نے اس کے خلاف سنجیدہ جنگ لڑی ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے مزید بتایاکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے مجھے ملاقات کے لیے بلایا لیکن میں نہیں گیا، جب میں نہیں گیا تو وہ خود ملاقات کے لیے آگئے اور انہوں نے ملاقات میں تین باتیں کیں۔

ان کا کہنا تھاکہ فیض حمید نے کہا میں آپ کو سینیٹ کا رکن اور پھر چیئرمین دیکھنا چاہتا ہوں اور آپ نے سسٹم کے اندر تبدیلی لانی ہے، میں نے انکارکردیا اور اس کے بعداپوزیشن کو تقسیم در تقسیم کردیاگیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور مریم نواز، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری دبئی میں موجود تھے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے