کالم

گٹار کی تاروں کے بعد طبلے کی طنابیں

دسمبر 7, 2023 2 min

گٹار کی تاروں کے بعد طبلے کی طنابیں

Reading Time: 2 minutes

‏عدلیہ اور نیب نے مل احتساب عدالت کے مرحوم جج ارشد ملک بلکہ خود عدلیہ کی عزت کو بچا لیا، پہلے جج ارشد ملک جیسوں کو نیب اور عدلیہ نے مل کر نواز شریف کیخلاف العزیزیہ و دیگرکیسوں میں استعمال کیا اور اب جج ارشد ملک کی پراسرار حالات میں موت کے بعد اِس پوری سازش میں ملوث اسٹیبلشمنٹ کے کرداروں، نیب افسران، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو بچانے کے لیے نواز شریف کے وکیل کو بھی دباؤ میں لا کر ویڈیو معاملے سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا-

‏نیب کے وکیل نے کہا کہ اگر نواز شریف ویڈیو والے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے فیصلہ چاہتے ہیں تو پھر یہ عدالت نواز شریف کی سزا ختم کر دے مگر پھر اس کیس کو از سرِ نو سماعت کے کئیے احتساب عدالت کو ریمانڈ کر دے۔ ایسا ہونے کی صورت میں نواز شریف العزیزیہ کیس میں مجرم نہیں محض ایک ملزم ہی رہتے اور اِس حد تک کاغزاتِ نامزدگی جمع کر سکتے تھے مگر پھر احتساب عدالت میں ریفرنس کی تلوار لٹکتی رہتی.

دوسری طرف چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اگر ویڈیو والے معاملے میں کوئی رائے یا فیصلہ دیتے تو پھر سوال پیدا ہوتا کہ کونسی قوتیں جج ارشد ملک پر دباؤ ڈالتی رہی اور کیا سپریم کورٹ کے نگران جج جسٹس اعجاز الاحسن اس تمام صورتِ حال میں سرگرم کردار تھے یا خاموش تماشائی۔ اس لئیے ہائی کورٹ نے بھی واضح کیا ویڈیو کی بنیاد پر کیس ریمانڈ ہونا دو دھاری تلوار ہو سکتی ہے۔

‏ایسے میں نواز شریف کے وکیل جنھوں نے پہلے کیس ریمانڈ ہونے کی نیب کی تجویز پر اتفاق کیا تھا وہ بھی پیچھے ہٹ گئے اور عدالت نے آخر نیب کی تجویز مسترد کرتے ہوئے اور ارشد ملک کی ویڈیو کے معاملے پر بغیر وجوہات کے مٹی ڈالتے ہوئے کیس میں میرٹ پر دلائل کا حکم دیا۔

‏ن لیگ نے بھی اب جج ارشد ملک کی ویڈیو کے معاملے پر حتمی طور پر اور قانونی طور پر مٹی ڈالنے کاموقف عدالت میں دے دیا ہے اور میرٹ پر دلائل شروع کر دئیے۔ ویڈیو نے کام دکھا دیا اور ن لیگ اب ہانامہ سازش کو بے نقاب نہیں بلکہ نواز شریف کی سزائیں ختم کرانے پر راضی ہو گئی ہے۔

‏ویڈیو میں جج ارشد ملک کی کہی بات سچ ثابت ہو گئی،

‏“وہ لوگ گٹار کی تاروں کو اوپر نیچے سے ایسے کھینچتے اور ڈھیلا کرتے ہیں کہ اُس میں سے انکی مرضی کی موسیقی نکلتی ہے۔”

‏تو ناظرین اب کی بار گٹار نہیں طبلے کی تنابیں مرضی سے کسّی گئی ہیں اور سیاست اور جمہوریت کا طبلہ خوب بج رہا ہے :
‏ناچ میری بلبل تجھے پیسہ ملے گا

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے