جسٹس شاہد جمیل مستعفی، اقبال کے اشعار لکھ ڈالے
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد جمیل نے اپنے عہدے سے مستعفی ہوتے ہوئے اقبال کے اشعار لکھ دیے۔
جمعے کو صدرِمملکت کو ارسال کیے گئے استعفے کے مطابق جسٹس شاہد جمیل نے لکھا کہ وہ دس برس جج کے عہدے پر رہے۔
انہوں نے لکھا کہ اب وہ ذاتی وجوہات کے باعث نیا ورق پلٹ رہے ہیں اور عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔
جسٹس جمیل نے سنہ 2028 میں ریٹائر ہونا تھا۔
اُن کے استعفے میں علامہ اقبال کے اشعار کچھ یوں ہیں:
آزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک سال
کس درجہ گراں سیر ہیں محکوم کے اوقات
آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منور
محکوم کا اندیشہ گرفتار خرافات
محکوم کو پیروں کی کرامات کا سودا
ہے بندہ اے آزاد خود اک زندہ کرامات
اقبال! یہاں نام نہ لے علم خودی کا
موزوں نہیں مکتب کے لیے ایسے مقالات

