کالم

موجودہ انتظام میں عمران خان کے لیے راستہ

مارچ 29, 2024 2 min

موجودہ انتظام میں عمران خان کے لیے راستہ

Reading Time: 2 minutes

عمران حکومت نے جاتے جاتے معیشت پر جو خوکش حملہ کیا تھا اس کے بعد پاکستان کا ڈیفالٹ سے بچ جانا بہت ہی عمدہ مینیجمنٹ سے ہی ممکن ہوسکتا تھا،اس کا کریڈٹ کس کو دینا ہے یہ فیصلہ آپ خود کر لیں لیکن میں اس کا بیشتر کریڈٹ مفتاح اسماعیل کو دیتا ہوں.

یہ اور بات ہے کہ پاکستان کی زیادہ آبادی جگلری اور لفاظی کی فین ہے اور سیاسی جماعتیں چونکہ پرائیوٹ لمیٹیڈ کمپنیز ہیں اس لئے ان میں اگر کوئی باہر کا ڈائریکٹر آنے کی کوشش کرے تو یہ فیملی بزنس اپنی پوری طاقت سے ریجیکشن کی اینٹی باڈیز بنانا شروع کر دیتی ہیں۔

مجھے قطعی حیرت نہیں ہے کہ شبر زیدی پاکستان کو بار بار ایک نان گوئنگ کنسرن کہہ رہا ہے کیونکہ یہ بات طے ہے کہ پاکستان کا سیاسی انتظام کسی لانگ ٹرم پلان کا متحمل نہیں ہوسکتا اور شارٹ ٹرم حل موجود ہی نہیں۔

شوکت ترین کے دور میں مجھے یقین ہوچلا تھا کہ اگر عمران حکومت نہ ہٹائی گئی تو ہم ترکی کے ساتھ انفلیشن اور ٹریڈ ڈیفیسٹ میں شانہ بشانہ چلیں گے۔
ترکی میں اس وقت انفلیشن ریٹ سڑسٹھ فیصد اور انٹرسٹ ریٹ پچاس فیصد ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کا جہاز اس وقت ٹربلینس سے باہر آگیا ہے لیکن اس کا ایک ہی انجن کام کر رہا ہے۔
امپورٹس اور ایکسپورٹس کے توازن میں بہتری ہے اور ٹیکس کلیکشن بہتر ہو رہی ہے۔

اگر تو ٹیکنالوجی کو تدریجی طور پر ٹیکسیشن میں استعمال کیا جاتا رہا تو پانچ سال میں مریض کے کم از کم چل کر خود بیت الخلا جانے کی صلاحیت پیدا ہوسکتی ہے۔

اسٹیبلشمنٹ نے فارم سینتالیس کے ذریعے نون لیگ کے قائد کو جو کمک فراہم کی ہے اس کے عوض وزارت خزانہ ایک اتائی سے چھین کر پروفیشنل کو دی گئی ہے،جس کا مطلب ہے کہ سیاسی مفادات کو بہرحال ریاستی مفادات کے تابع رکھنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔

نون لیگ کی حکومت کے پیچھے اس وقت عالمی اسٹیبلشمنٹ بھی کھڑی ہے اسی لئے آنے والے دنوں میں سعودی عرب ریکوڈک،یو اے ای ایگری اور رئیل سٹیٹ سیکٹر میں پیسہ لگاتا نظر ارہا ہے اور کم از کم جون تک پاکستانی کرنسی میں استحکام بلکہ بہتری نظر آ رہی ہے۔

مرکزی حکومت کو جو مالی استحکام درکار ہے وہ صوبوں سے کٹوتی کئے بنا ممکن نہیں اور یہ بات ایک ممکنہ سیاسی میدان جنگ بنتا نظر آ رہا ہے۔

ورلڈ بینک بجلی کی تقسیم میں چوری روکنے کے لئے بہت سی مالی امداد دے رہا ہے جس میں اگر سیاسی رکاوٹیں نہیں آتی تو پاکستان پانچ سال میں بجلی کی قیمت بھی کم کر سکنے اور اس کے نتیجے میں ایکسپورٹ وائبل بنانے میں بھی کامیاب ہوسکتا ہے۔

اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ اس حکومت کو چلا لے گی جس میں سیاسی مفادات پر بہت سے تنازعات جنم لینے کے واضح امکانات موجود ہیں اور دوسری طرف واضح دھاندلی کے بعد عوام کی اکثریت میں ایک شدید غصہ اور ردعمل کے ساتھ ساتھ سسٹم سے لاتعلقی جنم لے رہی ہے۔

ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اس حکومت کے ڈیفیکٹو سربراہ کو ایک ایکسٹینشن درکار ہوگی اور ایک بار پھر تمام بوٹ پرستوں میں قومی اتفاق رائے ہوتا بھی نظر آ رہا ہے۔

عمران خان کے لئے بہتر راستہ یہی ہوگا کہ وہ نواز شریف اور زرداری کی طرح ذرا دیر کے لئے شیلف ہو کر جیل میں اپنی خوراک پر توجہ دیں تاکہ جب اسٹیبلشمنٹ ان کو آواز دے تو وہ ووٹ کو عزت دو ٹائپ نعروں کو فلش کرکے ڈنڈ بیٹھکیں لگا سکیں۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے