کور کمانڈر ہاؤس نذرِ آتش کیس، سال بعد بھی مقدمے کا ریکارڈ پیش کیوں نہ کیا جا سکا؟
لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں ایک سال گزرنے کے بعد بھی عدالت میں مکمل ریکارڈ پیش نہ کیا جا سکا۔
سنیچر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کے ڈیوٹی جج ارشد جاوید نے مقدمات کی سماعت کی۔
کور کمانڈر ہاؤس حملے کے کیس میں 43 ملزمان نے ضمانت کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔
عدالت نے ضمانتوں پر مزید سماعت 6 مئی تک ملتوی کر دی ہے۔
پراسیکیوشن نے ریکارڈ پیش کرنے کے لیے عدالت سے مزید مہلت طلب کی۔
عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کا ریکارڈ پیش کرنے کا یہ آخری موقع ہے، اگر آئندہ سماعت پر مقدمے کا ریکارڈ پیش نہ کیا گیا تو ضمانتوں کی درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا جائے گا۔
کور کمانڈر ہاؤس حملے کے کیس میں 43 ملزمان نے ضمانت کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔
ملزمان پر جناح ہاؤس حملہ اور جلاؤ گھیراؤ کا الزام ہے۔
ملزمان کے خلاف تھانہ سرور روڈ میں مقدمہ نمبر 96/23 درج ہے۔
گزشتہ برس نو مئی کو تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ میں لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا۔

