اسرائیل کا دورہ کرنے والا پاکستانی صحافی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ، جان کی بازی ہار گیا
اسرائیل کا دورہ کرنے والا پاکستانی صحافی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ، جان کی بازی ہار گیا
واشنگٹن ڈی دسی: سید فیصل عل
ایک سے زائد بار اسرائیل کا دورہ کرنے والے میٹرو ون ٹی وی سے منسلک صحافی امتیاز میر پر قاتلانہ حملہ گزشتہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ملیر کالا بورڈ کے قریب کیا گیا ۔
پولیس کے مطابق امتیاز میر دفتر سے گھر واپس جا رہے تھے۔ نامعلوم حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ اور ان کے ڈرائیور، جو ان کے بھائی بھی ہیں، زخمی ہوگئے تھے۔
امتیاز میر کے قریبی دوست صحافی سہیل شبیر نے بتایا کہ امتیاز میر کو تین گولیاں لگیں — ایک چہرے پر اور دو سینے میں۔ ان کے بھائی محمد صلاح میر نے بتایا کہ چار مسلح افراد دو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے جنہوں نے اچانک گاڑی کو روکا اور فائرنگ شروع کر دی تھی۔
صحافی امتیاز میر کے بھائی، ریاض علی، جو اس کیس میں مدعی ہیں، نے اتوار کی رات ڈان ڈاٹ کام کو بتایا تھا کہ ان کے بھائی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔
سعود آباد پولیس اسٹیشن کے انچارج عتیق الرحمن نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ واقعہ ان کے علاقے میں پیش آیا اور صحافی مارے گئے.
پولیس نے صحافی پر حملے کے سلسلے میں ایک شخص اور اس کے بیٹوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے “پولیس کے مطابق یہ واقعہ جیکب آباد کے قصبے تھل میں زمین کے تنازعے کی وجہ سے ہوا۔
دریں اثنا سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے میر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور سندھ کے پولیس انسپکٹر جنرل کو قاتلوں کو فوری گرفتار کرنے کی ہدایت دی۔بیان کے مطابق، وزیراعلیٰ شاہ نے کہا، “امتیاز میر کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ مرحوم صحافی کی میڈیا کے لیے خدمات کو یاد رکھا جائے گا اور حکومت اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بھی میر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں “ایک محنتی اور بے خوف صحافی، جو ہمیشہ عوامی مسائل کو اجاگر کرتے تھے” قرار دیا۔
سینئیر وزیر شرجیل میمن نے کہا، “امتیاز میر پر حملے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے سندھ حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ سندھ حکومت صحافیوں کی جان اور جائیداد کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔”
نجی ٹی وی چینل میٹرو ون کے رپورٹر شجاعت قریشی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ معروف اینکر پرسن امتیاز میر کو ہسپتال کے جنرل وارڈ میں منتقل کر دیا گیا تھا اور ڈاکٹرز کے مطابق ابتدائی طور پر ان کی حالت خطرے سے باہر تھی تاہم انہیں بعد ازاں وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا تھا تھا جہاں وہ ہفتہ بھر انتہائی نگہداشت میں رہنے کے بعد ہفتے کی شام جان کی بازی ہار گئے ہیں
واقعہ کی تحقیقات کرنے والے ایس ایس پی کورنگی طارق نواز کے مطابق امتیاز میر پر قاتلانہ حملے کی ذمہ داری ایک نامعلوم تنظیم نے سوشل میڈیا پر قبول کی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ تنظیم پہلی بار سامنے آئی ہے، اس لیے فی الحال یہ کہنا ممکن نہیں کہ یہ دعویٰ درست ہے یا واقعی ایسی کوئی تنظیم موجود بھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس ہر پہلو سے تحقیقات کر رہی ہے اور جیسے ہی کوئی مصدقہ معلومات سامنے آئیں گی، انہیں عوام کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ "واضح رہے فائرنگ کے اس واقعہ کی ذمہ داری لشکر اسلام تھر نامی تنظیم نےقبول کئ تھی اور امتیاز میر کو اسرائیلی ایجنٹ قرار دیا تھا”
یہ بھی واضح رہے کہ واقعے کے فوری بعد پولیس نے جائے وقوع سے دو خول برآمد کیے تھے اور ابتدائی تفتیش کے مطابق اسے ایک ٹارگٹڈ حملہ قرار دیا تھا۔ بعد ازاں صحافی امتیاز میر کے بھائیوں نے پولیس کو دیے بیان میں واقعہ ذاتی دشمنی کا قرار دیا تھا۔
امتیاز میر کا تعلق کشمور کے علاقے کرم پور سے تھا اور وہ میڈیا کے شعبے میں 22 برس کا تجربہ رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز دھرتی ٹی وی سے کیا اور بعدازاں کے ٹی این نیوز سے وابستہ رہے۔
واضح رہے صحافی امتیاز میر سال 2022 اور 2024 کے دوران اسرائیل کا دورہ کرنے والے اس گروپ کا حصہ تھے جو گروپ اسرائیل اور اسلامی دنیا میں سفارتی تعلقات قائم کرنے اور امن معائدوں کے پھیلاو پر کام کررہا ہے”شراکاء” نامی تنظیم جو کہ بحرین میں مقیم ہے اس طرح کے کئی ایک دورے کروا چکی ہے جہاں اسلامی دنیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور بااثر سماجی شخصیات کو اسرائیل کو دورے کروائے جاتے ہیں۔
سال 2022 میں اسرائیل کا دورہ کرنے والے پاکستانی صحافیوں میں نامور صحافی احمد قریشی بھی شامل تھے جو اس وقت تک پاکستان کے سرکاری ٹیلی وژن پی ٹی وی سے منسلک تھے تاہم اس دورے کے فوری بعد عوامی حلقوں کے بھرپور رد عمل کی وجہ سے انہیں سرکاری ٹی وی سے برطرف کردیاگیاتھا۔
امتیاز میر کئی اک مرتبہ اسرائیلی ٹیلی وژن آئی 24 پر بطور تجزیہ کار بھی سامنے آتے رہے ہیں ،جہاں اپنے ایک تجزیے کے دوران انہوں نے حماس اور طالبان کو ایک ہی سوچ کی حامل تنظیمیں قرار دیا تھا۔
مارچ 2025 میں بھی پاکستانی اور عرب ممالک کے اراکین پر مشتمل ایک وفد نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا جس کے بعد پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت ایسے پاکستانی صحافیوں پر سفری پابندیاں عائد کر سکتی ہے اور ان کی شہریت کا از سر نو جائزہ لے سکتی ہے جو اسرائیل کے دورے پرگئے تھے، جبکہ غزہ میں فلسطینی خواتین اور بچوں کے جاری قتل عام اور تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔
واضح رہے پاکستان کے دفترخارجہ کا ایسے مواقعوں پر ہمیشہ مؤقف رہا ہے کہ ملک کا پاسپورٹ واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ یہ "اسرائیل کے لیے سفر کے لیے قابل قبول نہیں ہے”
پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور مستقل طور پر 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں رہا ہے، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔ پاکستانی پاسپورٹ واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ یہ اسرائیل کے علاوہ تمام ممالک کے لیے قابل قبول ہے۔

