’کسی نے اغوا نہیں کیا‘، انڈین سکھ خاتون کا قبول اسلام کے بعد پاکستانی سے نکاح
انڈین سکھ خاتون سربجیت کور 4 نومبر کو سکھ یاتریوں کے ایک گروپ کے ساتھ پاکستان آئی تھیں۔ یہاں آنے کے بعد وہ گروپ سے الگ ہو گئیں اور ناصر حسین سے شادی کر لی۔ ان کی گمشدگی کا علم اس وقت ہوا جب انڈین یاتری اپنے 10 روزہ دورے کے اختتام پر 13 نومبر کو واپسی کی تیاری کر رہے تھے۔
گمشدگی کی اطلاعات کے بعد پولیس اور خفیہ محکموں کے اہلکاروں نے تلاش شروع کی۔
جمعے کو یہ معلومات سامنے آئیں کہ انہوں نے ایک پاکستانی شہری سے شادی کر لی ہے اور سنیچر کو وہ اپنا حلفیہ بیان ریکارڈ کروانے کے لیے شیخوپورہ میں مقامی مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوئیں۔
جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں سربجیت کور نے کہ کہا انہوں نے آزادانہ طور پر اسلام قبول کرنے اور پاکستانی شہری سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا اور اب وہ اپنے شوہر ناصر حسین کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق سربجیت کور نے مذہب تبدیل کرنے کے بعد اپنا اسلامی نام ’نور‘ رکھا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں کسی مرحلے پر کسی دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں بھی انہوں نے کہا کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں تھا اور اپنے نئے اسلامی نام کی تصدیق کی۔ نکاح نامے میں انہیں ایک طلاق یافتہ خاتون اور دو بچوں کی ماں بتایا گیا ہے۔

