طلبہ پر کریک ڈاؤن کا مقدمہ، بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کو موت کی سزا
بنگلہ دیش کی عدالت نے طلبہ کے احتجاج پر کریک ڈاؤن کا حکم دینے کے جرم میں معزول وزیراعطم شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت سنا دی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کئی ماہ کی سماعت کے بعد پیر کو سنائے گئے فیصلے میں ان کو ’انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب‘ اور پچھلے برس طلبہ کے احتجاج پر ’مہلک کریک ڈاؤن کا حکم جاری کرنے کا ذمہ دار‘ بھی قرار دیا گیا ہے۔
شیخ حسینہ واجد کی پارٹی عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جا چکا ہے اور اس فیصلے کے بعد ملک میں مزید بدامنی پھیلنے کے خدشات ہیں۔
انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل کی عدالت ڈھاکہ میں واقع ہے اور اس نے فیصلہ انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات میں سنایا۔
رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلے کے خلاف تب تک اپیل نہیں کریں گے جب تک جمہوری حکومت جمہوری طور پر عوامی لیگ کی شمولیت سے حکومت نہیں سنبھال لیتی۔
ایک روز قبل ہی سجیب واجد نے خبردار کیا تھا کہ اگر عوامی لیگ پر سے پابندی نہ ہٹائی گئی تو عوامی لیگ کے حامی فروری میں الیکشن نہیں ہونے دیں گے اور احتجاج تشدد کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
دوسری جانب حسینہ واجد نے ایک بار پھر الزامات کو سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیتے ہوئے ماننے سے انکار کیا ہے۔

