دو ارب روپے، سینیٹر پلوشہ خان اور وفاقی وزیر علیم خان میں جھگڑے کی وجہ
استحکام پارٹی سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان میں تلخ کلامی کے دوران ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں وفاقی وزیر مواصلات اور سینیٹر پلوشہ خان کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے کے دوران خاتون سینیٹر نے کہا کہ سوال کرنے پر وفاقی وزیر سیخ پا ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا جہاں کے بےایمان یہاں اکٹھے ہوگئے ہیں۔
سینیٹر پلوشہ نے کہا کہ سوال پوچھنے پر اس لیے سیخ پا ہیں کیونکہ کہ آپ قصوروار ہیں۔
روزنامہ دی نیشن سے وابستہ صحافی اسد چودھری نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ:
”سینیٹر پلوشہ اور وزیر مواصلات کے درمیان ہونے ہونے والی لڑائی کا پس منظر سمجھنا بہت ضروری ہے۔
میں نے گزشتہ ہفتہ اپنے اخبار The Nation کے لیے رپورٹ کیا کہ وزیر مواصلات کی پرائیوٹ ہاوسنگ سوسائٹی کے سامنے موجود سڑک پر اربوں روپے کے اخراجات کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں اٹھ گیا ہے
تاہم بطور بیٹ رپورٹر میں نے اس معاملے کی ساری چھان بین خود بھی کی اور پتا چلا کے تقریبا دو ارب روپیہ وزیر محترم نے اپنی سوسائٹی کے سامنے موجود دس کلو میٹر سڑک پر خرچ کروا دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ دو ارب روپے ایسے وقت میں لگائے گئے ہیں جب علیم خان نے پورے ملک میں Maintenance کے کام رکوا رکھے ہیں اور چند من پسند منصوبوں پر کام جاری ہے۔
میرے پاس موجود دستاویزات کے مطابق پارک ویو کے سامنے موجود سڑک پر تقریباً دو ارب روپے کے ان منصوبوں میں اسمارٹ یو ٹرن کی تعمیر کے لیے 4.01 ملین روپے، روڈ کوریڈور کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے 105 ملین روپے، لائٹس کی تنصیب پر 137 ملین روپے، ہائی وے سیفٹی کے کاموں کے لیے 241 ملین روپے، سڑک کی بہتری اور توسیع کے لیے 671 ملین روپے، حیدرہ پل کی توسیع پر 291 ملین روپے، مذکورہ سڑک پر شجرکاری اور اسپرنکلنگ کے لیے 49.6 ملین روپے، یو ٹرن کے ری ڈیزائن پر 282 ملین روپے، دو یو ٹرنز کی تعمیر کے لیے 150 ملین روپے اور سڑک کی بہتری و توسیع کے ایک اور منصوبے کے لیے 1.8 ملین روپے شامل ہیں۔
یہ سارے کام پارک ویو سوسائٹی کو فائدہ موٹروے ٹھوکر نیاز بیگ سے اور دوسری طرف ہیڈرا پل والی سائیڈ سے رنگ روڈ سے ایک بہترین راستہ مہیا کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
میں کیونکہ civic issues اور urban planning پر بھی لکھتا ہوں تو میری رائے میں کسی بھی سوسائٹی کی کامیابی، قیمتوں میں اضافہ کے لیے سرکاری اپروچ روڈ بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے جس کا فائدہ سرکاری فنڈز کے بے بہا استعمال کر کے علیم خان صاحب نے لینے کی کوشش کی۔
دوسری طرف مری ایکسپریس وے پے لگنے والے اربوں روپے کے پیچھے بھی وزیر مواصلات کے فرنٹ مینیز کی جانب سے مری میں خریداری کو قرار دیا جا رہا ہے تاہم اس حوالے سے مستند معلومات آنے تک کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔
تاہم میں پوری ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ مری ایکسپریس ہو، لیاری ایکسپریس ہو یا پھر پارک ویو کے سامنے موجود جی ٹی روڈ ہو سب منصوبوں پر ہونے والے اخراجات اور کاموں میں کرپشن، قوانین کی خلاف ورزی روز روشن کی طرح عیاں ہے مگر وفاقی وزیر کے دباؤ کی وجہ سے وقتی طور پر چیزیں دب رہی ہیں۔

