چیٹ جی پی ٹی: الفاظ کا کیلکولیٹر، معاون یا بیساکھی
تحریر: علی ارقم
شطرنج کی دنیا میں گیری کیسپاروف(Garry Kasparov) کے نام سے سب واقف ہیں، وہ پندرہ سولہ سال (1985 سے 2000) تک عالمی چیمپئن رہے ہیں، حالیہ دور میں انہیں ان کے پیوٹن مخالف سیاسی خیالات کے باعث جانا جاتا ہے، جنہیں وہ ڈکٹیٹر اور ان کے سیاسی بندوبست کو مافیا سٹائل نظام قرار دیتے ہیں
انیس سو ستانوے (1997) میں انہوں نے امریکی کمپنی آئی بی ایم کے بنائے ہوئے سپر کمپیوٹر ڈیپ بلیو (Deep Blue)کے ساتھ شطرنج کی بازی کھیلی، یہ سپر کمیپیوٹر اس وقت ایک شاہکار تھا جو ایک سیکنڈ میں تقریباً 20 کروڑ ممکنہ چالیں جانچنے پرکھنے کی صلاحیت کا حامل تھا۔ اس اتعداد کی بدولت اس نے کیسپاروف کو شکست دے دی، جو دنیا بھر کے شطرنج کے کھلاڑیوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کیلئے تحیّر آمیز خبر تھی۔
کیا انسانی عقل ٹیکنالوجی کے سامنے عاجز آگئی تھی؟
ایسا ہی کچھ تحیّر آج مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے موجودہ ایکسپلوژن کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے، اب کی بار اس کے عمومی اثرات بہت ہمہ گیر ہیں، کیونکہ یہ ہماری زندگی کے ہر شعبے میں دخیل ہورہا ہے۔
اے آئی ک افادیت و مضمرات، اثرات و نتائج، اس کے پیداکردہ اخلاقی سوالات ایک بہت بڑی بحث کا موضوع ہیں، ایک شعبہ جس نے براہر راست ہمیں متاظر کیا ہے وہ تعلیم و آگہی کا ہے، عملی اور تخلیقی سرگرمیوں کا ہے۔
اے آئی کو کیونکر، کیسے اور کس حد تک استعمال میں لانا چاہیے، یہ بحث آپ کو روز نظر آتی ہے۔
اوپن اے آئی کے بانی آلٹمیں بارہا یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ اے آئی کو کیلکولیٹر (calculator) کی طرح سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جس طرح کیلکولیٹر نے ریاضی کو ختم نہیں کیا بلکہ انسان کو حساب کتاب کے بوجھ سے آزاد کر کے اعلیٰ سطح کے مسائل پر توجہ دینے کے قابل بنایا، اسی طرح چیٹ جے پی ٹی الفاظ کا کیلکولیٹر ہے، جو ہمیں لکھنے، سوچنے اور سیکھنے کے عمل میں معاونت فراہم کرنے والا ایک آلہ (tool)ہے، نہ کہ ہماری ان صلاحیتوں کا متبادل۔
اس ضمن میں مزید یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کیلکولیٹر سے خوفزدہ ہوکر اسے کلاس روم سے نکال دیا جاتا تو شاید جدید سائنس، انجینئرنگ اور معاشیات کبھی اس رفتار سے ترقی نہ کر پاتیں۔
ایک ہائی سکول استاد پیئرز گیلی نے اپنی انگریزی ادب کی کلاس کے بہتر طلبہ کو ایک مطالعے اور تجربے کا حصہ بنایا تاکہ اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ کیا چیٹ جی پی ٹی ان کی کلاس یا بطور استاد ان کا متبادل ہوسکتا ہے؟
اس مطالعے کے نتائج دلچسپ تھے، کچھ طلبہ کا ماننا تھا کہ اگر وہ یہ کلاس نہ بھی لیتے تو انہیں کچھ خاص فرق نہ پڑتا، آخر کس کو پرواہ ہے کہ ہم بہت اچھی، فصیح و بلیغ یا معیاری زبان تحریر کرسکتے ہیں یا نہیں کہ آج کی تعلیم جس کا مقصد تجارتی اور صنعتی شعبے کو کارکن فراہم کرنا ہے، اس میں درست اور معیاری زبان اور ادبی تحریروں کی کسی ضرورت ہے الا یہ کہ کوئی مصنف بننا چاہے یا صحافی یا لکھاری بنے (پاکستان میں تو صحافت کیلئے یہ شرط بھی ہونا لازم نہیں، ڈیجیٹل میڈیا یعنی ٹی وی اور انٹرنیٹ کی زبان کا معیار آپ کے سامنے ہے)۔
ویسے ہی کلاس روم، کالج، یونیورسٹی میں جہاں اساتذہ کو ہوم ورک اور اسائنمنٹ اور پریزینٹیشن کھیلنے کا اشتیاق ہوتا ہے، وہاں اے آئی جو کچھ کر رہی ہے اس سے اساتذہ و طالبعلم دونوں بخوبی واقف ہیں۔
امریکی استاد پیئرز گیلی نے اپنے مطالعے کے تحت طلبہ سے کہا کہ وہ اے آئی کی مدد سے دورحاظر میں ٹیکنالوجی کے ہمارے زندگی میں عمل دخل کے حوالے سے اپنے مڈٹرم کی اسائنمنٹ مضمون کیلئے موضوعات تجویز کریں، طلبہ نے اپنی تجاویز جمع کروائیں، پیئرز نے انہیں وہی موضوعات باری باری بلند آواز میں پڑھنے کیلئے کہا؛
الفاظ کے معمولی ردوبدل کے ان میں کافی یکسانیت تھی، جیسے؛
• "Navigating the Digital Age: How Technology Shapes Our Social Lives
• Navigating the Digital Age: A Personal Reflection on Technology
• From Connection to Distraction: Navigating a Love-Hate Relationship with Technology
پیئرز کہتے ہیں کہ وہ توقع کر رہے تھے کہ یہ سن کر طلبہ محظوظ ہونگے اور کلاس روم میں قہقہے گونجیں گے، لیکن اس کے برعکس طلبہ خاموش بیٹھے رہے اور جب بولے تو اس یکسانیت پر پریشانی کا اظہار کیاکہ کس طرح اے آئی سے تیار شدہ تحریریں ایک بے رنگ و بے ذائقہ، یکساں الفاظ کے مجموعے کی طرح تھیں۔
اسی لیے چیٹ جی پی ٹی کو کیلکولیٹر سے تشبیہہ دینے پر تنقید کرتے ہوئے پیئرز کہتے ہیں کہ کیلکولیٹر کی خوبی یہی ہے کہ وہ ہمیشہ ایک جیسا نتیجہ دیتا ہے، جو ریاضی میں درکار بھی ہے، ظاہر ہے دو جمع دو ہر حال میں چار ہی ہوگا۔ مگر لکھنا، سوچنا اور اظہار کرنا تخلیقی کام ہے کوئی ایسا عمل نہیں جہاں یکسانیتکو خوبی مانا جائے۔
مضمون میں ایسے کئی دلچسپ تجربات ہیں، اسی کلاس کی ایک طالبعلم کیم نے ایک موقع پر اعتراف کیا:
"میں تقریباً ہر اسائنمنٹ میں، اگر تمام میں نہیں، توچیٹ جی پی ٹی استعمال کرتی رہی ہوں۔ لیکن اس سمسٹر کے تجربات نے دکھایا کی اس کا حد سے زیادہ استعمال اس کے دماغ پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔‘‘
یہ کلاس کیم کیلئے پہلا موقع تھا جب وہ چیٹ جی پی ٹی کی مدد کے بغیر لکھ رہی تھی۔ ’’جلد ہی مجھے ایسا محسوص ہوا کہ جیسے میں بھول گئی ہوں کہ خود کیسے لکھا جاتا ہے، اپنی تحریر کی ایڈیٹنگ کیسے کی جاتی ہے، اور خیالات کو بغیر کسی ٹول کے ترتیب کیسے دیا جاتا ہے، چیٹ جی پی ٹی میرے لیے اب صرف ٹول نہیں، بلکہ بیساکھی بن چکا تھا۔
انہی دنوں ایک چوٹ کے باعث کیم چل پھر نہیں سکتی تھیں اور انہیں بیساکھیوں کا سہارا لینا پڑا تھا، یا اس کا ہم جماعت سام اس کی مدد کر رہا تھا۔ وہ اسے کلاس کے بعد لفٹ تک پہنچانے میں مدد دیتا تھا۔ اسی دوران ان میں دوستی بھی بڑھی، انہیں ایک دوسرے کے بارے میں جاننے کا موقع بھی ملا اور انہوں نے ساتھ گھومنے جانے کا پروگرام بھی ترتیب دیا۔
پیئرز بتاتے ہیں کہ کلاس روم اور تجربات صرف علم سکھانے کا ذریعہ نہیں ہوتے، بلکہ دوستوں اور تعلقات کے ذریعے زندگی بھر کے قیمتی تجربات بھی فراہم کرتے ہیں۔
کیسپاروف کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، شکست کے بعد اس نے سینٹور چیس (Centaur Chess)کا تصور پیش کیا، جس میں انسان اور کمپیوٹر ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بلکہ ایک ہی ٹیم میں کھیلتے تھے۔ اس طرزِ شطرنج میں کمپیوٹر لاکھوں ممکنہ چالوں اور ان کے نتائج کا تجزیہ کرتا تھا، جبکہ آخری فیصلہ انسانی کھلاڑی اپنی بصیرت، تجربے اور حکمتِ عملی سے کرتا تھا۔
حیران کن طور پر، عملی مقابلوں میں یہ ثابت ہوا کہ انسان اور کمپیوٹر کی مشترکہ ٹیم اکیلے سپر کمپیوٹر کو بھی شکست دے دیتی ہے، کیونکہ کمپیوٹر کی رفتار اور امکانات پر مبنی حساب انسانی فہم، سیاق و سباق اور تخلیقی سوچ کے ساتھ مل کر زیادہ طاقتور بن جاتے ہیں۔
اس لیے ٹیکنالجی کو بیساکھی نہیں بلکہ معاون آلہ بنانا چاہیے جیسے پہاڑوں اور ڈھلانوں پر چڑھنے والے ہائیکرز اپنی ہائیکنگ اسٹک استعمال کرتے ہیں، وہ اس سے زمین کی سطح کو جانچتا، توازن قائم رکھتا اور پہاڑ پر چڑھائی آسان بناتا ہے۔
اے آئی ٹولز بھی ہمیں رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں، سوچنے اور لکھنے کی صلاحیت بڑھاسکتے ہیں اور نئے آئیڈیاز دریافت کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ جس طرح بیساکھی پر انحصار کرنے والا شخص چل تو سکتا ہے لیکن پہاڑ کی چڑھائی سے لطف نہیں اٹھا سکتا، ویسےہی اے آئی پر زیادہ انحصار ہمارا تخلیقی عمل کمزور کر دیتا ہے۔

