جج مجوکہ کی ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو ’فیصلے سے قبل سزا‘
اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ کی عدالت نے ٹویٹس کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کا استغاثہ کے گواہوں پر جرح کا حق ختم کرتے ہوئے دونوں ملزمان کی عبوری ضمانتیں منسوخ کر دی ہیں۔
جمعرات کو سیشن جج افضل مجوکہ نے جرح کا حق ختم کر کے ضمانت منسوخ کی اور ساتھ ہی ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔
جج نے نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے تفتیشی افسر کو دونوں کو گرفتار کر کے جوڈیشل لاک اَپ بند کر کے جمعے کو وہیں سے ویڈیولنک کے ذریعے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
ایڈیشنل سیشن جج مجوکہ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ذاتی حیثیت میں پیش کرنے ہونے سے پیشگی روکنے کے لیے تفتیشی ایجنسی کو ہدایات جاری کیں۔
بدھ کو جج افضل مجوکہ کو بتایا گیا کہ ایمان مزاری کی طبیعت ٹھیک نہیں، اُن کو مہلت دی جائے وہ گواہوں پر خود جرح کرنا چاہتی ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ متنازع ٹویٹس کیس میں گواہ شہروز سے ایمان مزاری خود کچھ سوالات کرنا چاہتی ہیں۔
جج نے کہا کہ ہادی علی چٹھہ گواہ شہروز پر جرح مکمل کریں ورنہ وہ جرح کا حق ختم کر دیں گے۔
اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری نعیم گجر نے عدالت میں پیش ہو کر جج سے استدعا کی کہ پیر کی تاریخ دے دیں اس کے بعد کوئی التوا نہیں مانگا جائے گا۔
ایڈوکیٹ نعیم گجر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آج ایمان مزاری کی طبیعت خراب ہے اور پیر کو وہ خود جرح کرنا چاہتی ہیں۔
ایڈوکیٹ نعیم گجر کی استدعا کی پراسیکیوشن کی جانب سے مخالفت کی گئی اور عدالت سے کہا گیا کہ وہ گواہ سے حلف لے اور جرح شروع کرے۔
اس پر پراسیکیوٹر رانا عثمان اور ایڈووکیٹ نعیم گجر کے درمیان کمرہ عدالت میں شدید تلخ کلامی ہوئی۔ دونوں وکلا کے درمیان تلخی بڑھنے پر جج افضل مجوکہ اٹھ کر چیمبر میں چلے گئے اور بعد ازاں دونوں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف حکم جاری کیا کہ اُن کی ضمانتیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

