عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کا کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کی سرکاری وکیل کو ہدایت
اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی ہے جہاں عدالت نے سرکاری وکیل سے سوال کیے۔
ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ نے عمران خان سے اس کیس سے متعلق مشاورت کے لیے ملاقات نہ ہو سکنے کا عدالت کو بتایا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ جیل حکام، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی اے) اور دیگر فریقوں کا جواب آ چکا ہے، آپ کی ملاقات ہو گئی تو 24 فروری کو حتمی دلائل ہوں گے۔
عدالت نے پی ٹی اے کے جواب کو غیرتسلی بخش قرار دیا۔
جسٹس ارباب طاہر نے پی ٹی اے کے وکیل سے کہا کہ آپ دیکھ لیں رٹ پٹیشن کیا ہے اور آپ کا جواب کیا ہے۔
عدالت نے ہدایت کہ وہ ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت درخواست میں تفصیلی جواب جمع کرائیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ توہین عدالت میں ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کا دفتر تحریری جواب جمع کرائے۔
سرکاری وکیل نے بتایا کہ ملاقاتوں والے کیسز سننے والا لارجر بینچ ہے۔
جسٹس طاہر نے سرکاری وکیل سے کہا کہ وہ کہہ رہے ہیں جب تک ملاقات نہیں ہو گی یہ کیس کیسے آگے بڑھے گا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کے خلاف کیس کیا ہوا ہے لیکن وکیل سے ملنے کی اجازت نہیں، یہ کیس فائل ہونے کے بعد میری عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی۔
عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ آپ نے جو بھی کہنا ہے وہ تحریری طور پر دے دیں۔
سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ ملاقات کرنے کا آپ کا آرڈر چار نومبر کا ہے دو ماہ سے عمل نہیں ہو رہا، کیا میں وہاں جیل میں آج ملاقات کے لیے جاؤں؟
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ اس حوالے سے مناسب آرڈر جاری کر دیں گے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے سرکاری وکیل سے دوبارہ کہا کہ اگر ملاقات ان کو دیں گے تو یہ کیس آگے چلے گا۔
سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی۔

