جیل سے ویڈیو لنک پیشی، ایمان مزاری کا جج مجوکہ پر عدم اعتماد
ٹویٹس کیس میں اسلام آباد کے سیشن جج افضل مجوکہ نے ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کی ہدایت کی۔
سنیچر کی صبح جج مجوکہ کے حکم پر آدھے گھنٹے کے اندر عمل درآمد کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم تفتیشی ایجنسی، اسلام آباد پولیس اور اڈیالہ جیل کے حکام نے انتظامات کیے۔
ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ کو ویڈیو لنک کے ذریعے جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا تو جج مجوکہ نے پوچھا کہ کیا وہ جرح شروع کریں گی؟
ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے پوچھا کہ کیا عدالتی کارروائی رپورٹ کرنے کے لیے میڈیا موجود ہے؟
اس کے بعد انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جیل میں اُن پر تشدد کیا جا رہا ہے اور پانی، کھانا نہیں دیا جا رہا۔
انسانی حقوق کے لیے سرگرم وکیل نے جج مجوکہ سے کہا کہ تم اپنی نوکری کر رہے ہو، تمہاری وجہ سے سارا کچھ ہو رہا ہے، ہم عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔
یہ کہہ کر ایمان مزاری کیمرے کے سامنے سے اٹھ کر چلی گئیں اور ہادی علی چٹھہ جو کچھ کہنا چاہتے تھے وہ بھی اٹھ کر چلے گئے۔
ویڈیو لنک بند کیے جانے کے بعد جج مجوکہ نے عملے کو کہا یہ کلپ کاٹ کر مجھے دو۔
انہوں نے عدالت میں موجود افراد سے کہا کہ وہ فیصلے کا انتظار کریں اور اٹھ کر چیمبر میں چلے گئے۔

