متفرق خبریں

مزاحمت بطورِ کام، انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری پر فرانسیسی خبر ایجنسی کی رپورٹ

جنوری 25, 2026

مزاحمت بطورِ کام، انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری پر فرانسیسی خبر ایجنسی کی رپورٹ

ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے گرفتاری اور جیل بھیجے جانے سے چند گھنٹے قبل اس عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا تھا کہ قید میں ڈالنے سے وہ خاموش ہوں گی اور نہ پیچھے ہٹیں گی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی ایک فیچر رپورٹ کے مطابق 32 سالہ وکیل نے اقلیتوں، ہتک عزت کے الزامات کا سامنا کرنے والے صحافیوں اور توہین مذہب کے انتہائی حساس سمجھے جانے والے مقدمات میں پیش ہونے کی وجہ سے پاکستانی معاشرے اور دُنیا بھر کے انسانی حقوق کے حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

جیسے جیسے ایمان مزاری کی شہرت بڑھتی گئی، اسی طرح اُن کے اپنے خلاف بھی سرکاری چارج شیٹ بنتی گئی جس میں ’سائبر دہشت گردی‘ اور ’نفرت انگیز بیانات‘ کے الزامات شامل تھے۔

سنیچر کو اسلام آباد کی ایک عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر و ساتھی وکیل ہادی علی چٹھہ کو ’ریاست مخالف‘ سوشل میڈیا پوسٹوں پر 10 سال قید کی سزا سنائی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق پاکستان کی فوج کی ایک بڑی نقاد وکیل نے ’انتہائی جارحانہ‘ مواد پھیلایا۔

یہ سزا ایمان اور ہادی کو دوبارہ گرفتار کیے جانے کے ایک دن بعد سنائی گئی جب وہ الزامات کا سامنا کرنے کے لیے عدالت کی سماعت میں حصہ لینے جا رہے تھے۔

’ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے‘

ایمان مزاری نے منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس ملک میں سچ بولنا بہت مشکل ہو چکا ہے۔‘

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’لیکن ہمیں معلوم تھا کہ جب ہم یہ کام کر رہے ہیں تو ہم اس کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

ان کی جرات اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کا پاکستان کی انسانی حقوق کی معروف وکیل عاصمہ جہانگیر کے ساتھ موازنہ کیا جا رہا جس کو ایمان مزاری نے اپنے لیے ’ایک بہت بڑا اعزاز‘ قرار دیا۔

ایمان مزاری پاکستان کی سابق وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی بیٹی ہیں جبکہ ان کے مرحوم والد ملک کے بڑے ماہر اطفال (چائلڈ سپیشلسٹ) تھے۔

ایمان مزاری کی والدہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ خاندان کے لیے ان خطرات سے نمٹنا مشکل ہو گیا تھا جن کا وہ سامنا کر رہے تھے کیونکہ اُن کی بیٹی کی جانب سے ’مشکلات میں گھرے اور پسے ہوئے‘ طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور کارکنوں کا دفاع کیا جا رہا تھا۔
شیریں مزاری نے اپنی بیٹی کے کام کو قابلِ فخر قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’جب بہت سارے لوگ تکلیف میں ہیں تو ہم توقع کرتے ہیں کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بولنے کی وجہ سے ہمیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

’ایک مستقل چیلنج‘

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک وکیل کے طور پر ایمان مزاری نے پاکستان کے بعض حساس ترین مقدمات پر کام کیا ہے جن میں بلوچوں کی جبری گمشدگی کے ساتھ اس کمیونٹی کی سرکردہ کارکن ماہرنگ بلوچ کا عدالتوں میں دفاع بھی شامل ہے۔

انہوں نے بطور وکیل توہین مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کی بھی وکالت کی۔ یہ ایسے مقدمات ہیں جن میں وکالت کے انتہائی خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں حکومت کے کریک ڈاؤن کا سامنا کرنے والے افغان شہریوں کے مقدمات بھی ایمان مزاری نے لڑے۔

آئین میں تبدیلیوں اور پارلیمنٹ کی طرف سے جلد بازی میں منظور ہونے والی قانون سازی نے پاکستان کو سخت ریاستی کنٹرول کی طرف دھکیل دیا ہے جہاں سیاسی اور شہری حقوق اور آزادیوں پر قدغنیں عائد کر دی گئی ہیں۔

صحافی اسد علی طور کی ایمان مزاری نے متعدد مقدمات میں وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ’ریاست کے لیے ایک مستقل چیلنج‘ ثابت ہوئیں۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’کیونکہ وہ ہر اس شخص کی نمائندگی کر رہی ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر ریاست کے نشانے پر ہے۔‘

اسد طور نے کہا کہ ’بہت خوشحال خاندان سے تعلق کے باوجود ایمان مزاری نے اپنی سرگرمیوں کے حوالے سے کیے گئے انتخاب کے ذریعے اپنی زندگی کو کافی مشکل بنا دیا۔‘

’ہم لڑتے رہیں گے‘

ایڈنبرا یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ایمان مزاری کو بھی ایک ایسے ملک میں جہاں مخلتف شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد کم ہے، سوشل میڈیا پر سیکسسٹ ریمارکس اور جعل سازی سے بنائی جانے والی تصاویر کا سامنا کرنا پڑا۔

ایمان مزاری کو 2025 میں ورلڈ ایکسپریشن فورم کی جانب سے ینگ انسپیریشن ایوارڈ سے نوازا گیا تھا کیونکہ ان کی ’غیرمعمولی ہمت، دیانت اور قانون کی حکمرانی کی جدوجہد بااثر‘ قرار پائی تھی۔

گزشتہ سال ہی انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے کہا تھا کہ ان کے خلاف مقدمات ’ہراساں کرنے اور دھمکانے کے لیے قانونی نظام کے من مانے استعمال کی عکاسی کرتے ہیں۔‘

ایمان مزاری کو جنوری 2026 میں پاکستان کے فوجی ترجمان کی ایک نیوز کانفرنس میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ ’وہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی آڑ میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے کام کرتے ہیں۔‘

ایسے الزامات کے باوجود ایمان مزاری نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کا عزم کیا۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم پہلے نہیں جنہیں اس ملک میں غیرقانونی طور پر قید کیا جائے گا۔ ہم لڑتے رہیں گے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے