کیا آپ اُن کو وکیل سمجھتے ہیں؟ جسٹس ڈوگر کے ایمان مزاری اور ہادی علی پر ریمارکس
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے وکلا ہڑتال کے دوران ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کے بارے میں غیرمعمولی ریمارکس دیے ہیں۔
پیر کی صُبح ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جب جسٹس ڈوگر کو بتایا گیا کہ وکلا ہڑتال کے باعث پیش نہیں ہو رہے تو انہوں نے پوچھا کہ کس بات پر ہڑتال ہے، میری عدالت میں تو سب پیش ہو رہے ہیں۔
وکیل قیصر عباس گوندل نے بتایا کہ بار کے وکلاء کی گرفتاری پر آج ہڑتال ہے۔
جسٹس سرفراز ڈوگر نے پوچھا کہ کون سے وکلا گرفتار ہوئے ہیں؟
وکیل نے جواب دیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ گرفتار ہوئے ہیں۔
جسٹس سرفراز ڈوگر کا استفسار کیا کہ کیا آپ ان کو وکلا سمجھتے ہیں؟
چیف جسٹس کے استفسار پر وکیل خاموش رہے تو جسٹس سرفراز ڈوگر نے مزید کہا کہ اگر اپ انھیں وکلا سمجھتے ہیں تو چیمبر میں آ کر اظہار رائے کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار کی تین روزہ ہڑتال جاری ہے۔
اس دوران اسلام آباد کچہری (ضلعی جوڈیشل کمپلیکس) میں پولیس کا داخلہ بند ہے۔ وکلا نے ناشتے کے لیے کینٹین پر بیٹھے پولیس اہلکاروں کو باہر جانے کے لیے کہا۔ بار نے ہڑتال کے دوران پولیس کے داخلے پر بھی پابندی کا اعلان کیا تھا۔

