جیف بیزوس کی ’بلیو اوریجن‘ کا دیو ہیکل ’نیو گلین‘ راکٹ اُڑتے ہی دھماکے سے تباہ
امازون کے مالک ارب پتی جیف بیزوس کی کمپنی ’بلیو اوریجن‘ کا ’نیو گلین‘ راکٹ مقامی وقت کے مطابق رات کے تقریباً نو بجے اپنے انجنوں کے ایک معمول کے ٹیسٹ کے دوران دھماکے سے پھٹ گیا۔
یہ دھماکہ ’لیو نیٹ ورک‘ کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے جو ایلون مسک کی کمپنی ’سپیس ایکس‘ اور اس کی ’سٹار لنک‘ سروس کا اصل مدمقابل بننے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
اس ہولناک دھماکے کے باوجود کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سینٹر کے اوپر آسمان کو دھماکے سے روشن کر دینے والے آگ کے گولے نے اس بات پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ کیا ’بلیو اوریجن‘ امریکی خلائی تحقیق کے ادارے ناسا کے ساتھ کیے گئے ان وعدوں کو پورا کر پائے گی جو خلابازوں کو چاند کی سطح پر بھیجنے اور وہاں ایک مون بیس (چاند پر اڈہ) تعمیر کرنے کی کوششوں سے متعلق ہیں۔
جیف بیزوس نے سوشل میڈیا نیٹ ورک ایکس پر لکھا کہ ’تمام عملہ محفوظ ہے اور سب خیریت سے ہیں۔ بہت مشکل دن تھا، لیکن جو کچھ بھی دوبارہ بنانے کی ضرورت ہے ہم اسے بنائیں گے اور دوبارہ اڑان بھریں گے۔‘
اس دھماکے نے راکٹ کے لانچنگ پیڈ ’سپیس لانچ کمپلیکس 36‘ (ایل سی-36) کو ہلا کر رکھ دیا اور اسے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا رہا ہے کہ دھماکے کے بعد لانچ پیڈ کا ایک آسمانی بجلی سے بچانے والا ٹاور گر رہا ہے۔
ایل سی-36 دنیا کی واحد تنصیب ہے جو ’نیو گلین‘ راکٹ کو لانچ کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق جب تک اس لانچ پیڈ کو دوبارہ تعمیر اور اس کی دوبارہ تصدیق نہیں کر لی جاتی، بلیو اوریجن کے پاس اپنے سب سے بڑے راکٹ کو اڑانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں اور اس کام میں ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں لگیں گے۔

