’عدالت قوم اور صحافی برادری کے دُکھ میں شریک‘، ارشد شریف قتل کیس نمٹا دیا
پاکستان وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف کے کینیا میں قتل پر لیے گئے ازخود نوٹس کو نمٹاتےہوئے کہا ہے کہ ’ہم اپنے (پاکستانی) شہری کی موت پر اپنی قوم اور صحافی برادری کے دُکھ کو سمجھتے ہیں اور اس میں شریک ہیں۔‘
تحریری فیصلے کے مطابق ’ارشد شریف کی اہلیہ سومیہ ارشد کے وکیل سعد بٹر نے بتایا کہ ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کو زیر التوا رکھا جائے تاہم یہ نہیں بتایا کہ کب تک اور کیسے اس عدالت میں زیرسماعت رکھا جائے۔ قبل ازیں ارشد شریف کی والدہ کے وکیل شوکت صدیقی نے کہا تھا کہ سپیشل جوائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم اچھی نیت سے بنی ہوگی لیکن عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں کہ ایسا اقدام لے۔ لہذا عدالت اُن کی اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ کیس کی تحقیقات کی نگرانی نہیں کر سکتی۔‘
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان، سپیشل جے آئی ٹی کے ارکان، وزارتِ خارجہ کے حکام، سپریم کورٹ کے وکیل سعد بُٹر کی اس معاملے میں عدالت کو فراہم کردہ معاونت پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے فیصلے میں لکھا ہے مقتول صحافی کے اہلخانہ کسی بھی شکایت پر دادرسی کے لیے متعلقہ عدالت (عدالتوں) سے رجوع کر سکتے ہیں۔
ارشد شریف کو اکتوبر 2022 میں کینیا میں قتل کیا گیا تھا۔ اس واقعے کا دسمبر 2022 میں سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا۔

