متفرق خبریں

پاکستانی آلو افغان سرحد بند ہونے سے ’بحران کا شکار‘ مگر مریم نواز ریکارڈ پیداوار پر خوش

فروری 4, 2026

پاکستانی آلو افغان سرحد بند ہونے سے ’بحران کا شکار‘ مگر مریم نواز ریکارڈ پیداوار پر خوش

پاکستان میں آلو کی قیمتوں میں کمی پر قابو پانے کے لیے وزارتِ قومی غذائی تحفظ نے ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسری جانب پنجاب کی وزیراعلٰی مریم نواز نے کہا ہے کہ اُن کے زیرِانتظام صوبہ رواں سال 12 ملین میٹرک ٹن آلو کی ریکارڈ پیداوار کے لیے تیار ہے۔

بدھ کو وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، حکومت پاکستان سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سرحد بند ہونے کے باعث آلو کی برآمدات متاثر ہوئیں جس سے ملکی منڈی میں قیمتیں گر گئیں۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین سے منسوب بیان کے مطابق وزارتِ متبادل برآمدی منڈیوں کی تلاش کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ’آلو کی برآمدات کے فروغ کے لیے وزارتِ خارجہ اور وزارتِ تجارت سے قریبی مشاورت جاری ہے۔‘

رانا تنویر حسین نے کہا کہ ’فائٹو سینیٹری سرٹیفکیٹ‘ کے اجرا کے لیے چالان فیس صرف 2500 روپے مقرر کی گئی ہے۔
’حکومت کسانوں اور برآمدکنندگان کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ وزارتِ تجارت کو آلو کی برآمدات کے لیے غیرملکی درآمدکنندگان کی نشاندہی کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔‘

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستانی آلو کے لیے 36 ممالک کو ممکنہ برآمدی منڈیوں کے طور پر شناخت کر لیا گیا ہے جبکہ زرعی برآمدات کے فروغ سے کسانوں کی آمدن میں واضح اضافہ ممکن ہوگا۔
’حکومت زرعی شعبے کے تحفظ اور استحکام کے لیے پائیدار پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ منڈیوں میں تنوع کے ذریعے زرعی بحران سے نکلنے کی جامع حکمتِ عملی اپنائی گئی ہے اور وزارت تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔‘

دوسری جانب وزیراعلٰی مریم نواز نے ایکس پر پوسٹ کیے بیان میں کہا ہے کہ پنجاب رواں سال 12 ملین میٹرک ٹن آلو کی ریکارڈ پیداوار کے لیے تیار ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد اضافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں استحکام اور کسانوں کو مناسب معاوضہ یقینی بنانے کے لیے پنجاب حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے فعال طور پر کام کر رہی ہے۔

پنجاب کی وزیراعلٰی نے کہا کہ ’آج قازقستان کے ساتھ ہونے والی پیش رفت ایک اہم اور پہلا قدم ہے جبکہ آئندہ ہفتوں میں مزید بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد اضافی پیداوار کی کھپت کو یقینی بنانا ہے تاکہ کسانوں کو کسی قسم کا نقصان نہ اٹھانا پڑے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے