ایپسٹین فائلز اور ’قابل اعتراض‘ عذر خواہی، علی ارقم کا کالم
پاکستانی ملاؤں کا مرغوب مشغلہ آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر کسی بھی معاملے کو اپنی پسندیدہ مذہبی پچ پر لاکر خود ہی کو فل ٹاس سرو کرکے گیند باؤنڈری سے باہر پھینکنا اور پھر داد طلب نظروں سے اپنے عقیدت مندوں کو دیکھنے کا ہے۔
ویسے ہی ’ہم اور وہ‘ کے پیرائے میں لبرل طرز فکر کے وکیل مذہبی انداز بیان کو قابل اعتراض مانتے ہوئے ایپسٹین فائلز پر جاری عالمی بحث میں اپنی افتاد طبع کے تحت اصل مدعا چھوڑ کر اپنے فکری حریفوں کی لال لال کرنے میں لگ گئے ہیں
در حقیقت ایسپٹین فائلز جس معاملے کو سامنے لاتے ہیں وہ مغربی طاقت، اخلاقی ساکھ اور بالخصوص امریکہ کی عالمی قیادت کے منصب پر براجمان ہونے کے بیانیے کو چیلنج کرنے کا ہے
فلسطین کے معاملے میں جہاں ان کے سیاسی دعووں کا کھوکھلا پن ظاہر ہوا وہیں ایپسٹین فائلز میں امریکی و مغربی اشرافیہ (سیاسی، کارپوریٹ اور اکیڈیمیا) کا اندرونی اخلاقی اور ادارہ جاتی تعفن واضح ہوا ہے، جہاں طاقتور لوگ قانون اور احتساب سے بالاتر ہیں۔
وہی ریاستیں اور ادارے جو دنیا کو جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا درس دیتے ہیں، اپنے بااثر طبقے کو بچوں کے جنسی استحصال (پیڈوفیلیا) جیسے جرائم پر تحفظ فراہم کریں، تو ان کی اخلاقی برتری خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
ایپسٹین فائلز کو لے کر برتی جانے والی بدنظمی، تاخیر، غلط ریڈیکشنز (وکٹمز کی شناخت چھپانے کی نیم دلانہ کوشش) اور کسی بڑی سزا کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ نظام اپنے آپ کو بے نقاب کرتے ہوئے بھی اپنی تطہیر کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہے۔
بلاشبہ ہمارے معاشرے میں جاری جنسی جرائم ہمارے لیے زیادہ فوری توجہ کے مستحق ہیں، مگر اس کیلئے عالمی طاقت کے مراکز میں موجود سیاسی و جنسی جرائم اور منافقت پر بات کو ثانوی بلکہ غیر متعلقہ معاملہ قرار دینا فکری بد دیانتی ہے۔
یہ ردعمل بعینیہ وہی ہے جس کیلئے اپنے فکری مخالفین پر اعتراض کیا جاتا ہے، کیونکہ ایک ظلم کو نمایاں کرنے کیلئے دوسرے ظلم کو پس منظر میں دھکیلنا کہاں کا انصاف ہے، اخلاقی اور فکری دیانت کا تقاضا تو یہ ہے مقامی یا عالمی میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کیا جائے، بلکہ یہ مانا جائے کہ طاقت جہاں بھی ہو، چاہے مذہبی سماج میں ہو یا امریکی ایلیٹ کے حلقوں میں، اس کا احتساب لازم ہے، اور کسی ایک کو لے کر بھی خاموشی قابل اعتراض ٹھہرتی ہے۔
لیکن ظاہر ہے سوشل میڈیا ایلگورتھم جو ہیں وہ سنجیدہ طرز فکر کے مقابلے میں غصے اور تحقیر کو زیادہ ایمپلیفائی (amplify) کرتی اور قبائلی انداز کے پولرائزیشن کو بڑھاوا دیتی ہے۔
سو قابل اعتراض گیلری سے داد پانے والا مدعا تو حمداللّٰہ و فضل الرحمان کی چھترول ہے، نہ کہ ایک عالمی سطح کی بحث میں سنجیدہ بات۔
ہم اور تم میں مقابلہ زیادہ رش لیتا ہے۔

